پاکستان میں International Monetary Fund (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے بعد سب سے زیادہ متاثر اگر کوئی ہوا ہے تو وہ عام آدمی ہے۔ حکومتی فیصلوں اور معاشی پالیسیوں کا اصل بوجھ اب براہ راست عوام کے کندھوں پر آ چکا ہے۔
مہنگائی نے زندگی مشکل بنا دی
آج ایک عام شہری جب بازار جاتا ہے تو قیمتیں سن کر حیران رہ جاتا ہے۔ آٹا، دال، چینی، گھی، سبزیاں—ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔ گھریلو بجٹ مکمل طور پر بگڑ چکا ہے اور لوگوں کے لیے ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
بجلی اور گیس کے بل: ایک نیا عذاب
آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سبسڈی کم ہونے کے بعد بجلی اور گیس کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ کئی گھروں میں لوگ بل ادا کرنے یا کھانا خریدنے کے درمیان فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
تنخواہیں کم، اخراجات زیادہ
نجی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں وہی ہیں، لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ اس فرق نے متوسط طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، جو نہ مکمل طور پر غریب ہے اور نہ ہی مہنگائی برداشت کر سکتا ہے۔
بے روزگاری میں اضافہ
کاروباری حالات خراب ہونے کی وجہ سے کئی چھوٹے کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ فیکٹریاں کم پیداوار کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے نوکریوں کے مواقع بھی کم ہو گئے ہیں۔ نوجوان خاص طور پر اس صورتحال سے پریشان ہیں۔
قرض اور پریشانی کا بڑھتا بوجھ
گھر چلانے کے لیے لوگ ادھار لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کئی خاندانوں کے لیے یہ صورتحال ذہنی دباؤ اور پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔
عوام کیا کہتی ہے؟
عام لوگ اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر کب تک وہ اس بوجھ کو برداشت کریں گے؟ کیا یہ قربانیاں واقعی مستقبل میں کوئی بہتری لائیں گی یا یہ سلسلہ جاری رہے گا؟
کیا بہتری ممکن ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معاشی اصلاحات کامیاب ہو گئیں تو مستقبل میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے وقت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔
حقیقت: سب سے بڑا بوجھ عوام پر
حقیقت یہی ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام نے معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کی ہے، لیکن اس کی قیمت عام آدمی ادا کر رہا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ہر گھر میں محسوس کی جا رہی ہے۔
—
ایسی ہی مزید حقیقت پر مبنی اور دل کو چھو لینے والی خبروں کے لیے وزٹ کریں: DeepDive

