آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول اور کشیدگی

آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول اور کشیدگی

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ ترین اقدامات اور بیانات نے خطے کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ 23 اپریل 2026 کو صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ (Truth Social) پر اپنے سخت احکامات جاری کیے۔

اس صورتحال کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

’گولی مارنے‘ کا براہِ راست حکم

صدر ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بارودی سرنگیں (Sea Mines) بچھانے والی کسی بھی کشتی کو فوری طور پر نشانہ بنائیں اور اسے تباہ کر دیں۔

بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کارروائی: انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس حکم کی تعمیل میں کوئی “ہچکچاہٹ” نہیں ہونی چاہیے۔

چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنانا: ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کا بڑا بحری بیڑہ پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے، اس لیے اب صرف چھوٹی کشتیاں ہی یہ خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔

آبنائے ہرمز پر ‘مکمل کنٹرول’ کا دعویٰ

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس وقت آبنائے ہرمز پر “مکمل کنٹرول” رکھتا ہے۔ ان کے اہم نکات یہ تھے:

اجازت کے بغیر نقل و حرکت پر پابندی: انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ کی منظوری کے بغیر کوئی بھی بحری جہاز اس راستے سے گزر یا نکل نہیں سکتا۔

“سیلڈ اپ ٹائٹ” (Sealed up Tight): صدر نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند قرار دیا اور کہا کہ یہ اس وقت تک اسی طرح رہے گی جب تک ایران امریکہ کے ساتھ کوئی “ڈیل” نہیں کر لیتا۔

بارودی سرنگیں صاف کرنے کا آپریشن

ٹرمپ نے امریکی بحریہ کے “مائن سویپرز” (بارودی سرنگیں صاف کرنے والے دستوں) کو حکم دیا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے کو صاف کرنے کے کام کو تین گنا تیز کر دیں۔

پینٹاگون کی رپورٹ: تاہم، پینٹاگون نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر پاک کرنے میں ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

اقتصادی اور اسٹریٹجک اثرات

تیل کی عالمی قیمتیں: آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی تجارت کا سب سے اہم راستہ ہے جہاں سے روزانہ عالمی خام تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔

امریکی ناکہ بندی: امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق، اب تک 31 بحری جہازوں کو ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر واپس موڑ دیا گیا ہے۔

ایران کا ردعمل اور اندرونی صورتحال

صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور ان کے درمیان “اعتدال پسندوں” اور “سخت گیر” دھڑوں کے درمیان جنگ جاری ہے۔ دوسری جانب، ایران نے بارودی سرنگیں بچھانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے امریکی پروپیگنڈا قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے اس علاقے میں اپنی قوت دکھانے کے لیے بحری نقشے جاری کیے ہیں۔

خلاصہ: صدر ٹرمپ کا یہ اقدام ایران پر معاشی دباؤ ڈال کر اسے مذاکرات کی میز پر لانے کی ایک کڑی ہے، لیکن عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں ایک بڑی جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *