.ابابیل اور ہاتھی والوں کا قصہ (Ashab al-Fil)

یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے پیش آیا۔
ابرہہ کا ارادہ
یمن کا ایک ظالم بادشاہ تھا جس کا نام ابرہہ تھا۔ اس نے ایک بہت بڑا چرچ بنایا اور چاہا کہ لوگ کعبہ کے بجائے وہاں آئیں۔ جب ایسا نہ ہوا، تو وہ غصے میں ایک بہت بڑا لشکر اور ہاتھی (Elephants) لے کر مکہ پر حملہ کرنے نکلا تاکہ خانہ کعبہ کو (نعوذ باللہ) گرا دے۔
اللہ کی مدد
جب وہ مکہ کے قریب پہنچا، تو مکہ والے نہتے تھے اور پہاڑوں میں پناہ لے لی۔ ابرہہ کا سب سے بڑا ہاتھی، جس کا نام محمود تھا، کعبہ کی طرف بڑھنے سے انکاری ہو گیا۔ وہ بیٹھ جاتا، لیکن دوسری طرف موڑنے پر دوڑنے لگتا۔
اسی دوران اللہ تعالیٰ نے سمندر کی طرف سے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے جھنڈ بھیجے جنہیں ابابیل کہا جاتا ہے۔
انجام
ان ننھے پرندوں کی چونچ اور پنجوں میں کن کنکریاں (Sijjeel) تھیں۔ جب انہوں نے وہ کنکریاں لشکر پر گرائیں، تو وہ کوئی عام پتھر نہیں تھے۔ جس پر بھی وہ کنکری گرتی، وہ اسے چیرتی ہوئی نکل جاتی۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *