
بلوچستان کے ساحلوں پر سمندر کا رنگ سبز ہونا ایک قدرتی عمل ہے جسے سائنسی زبان میں “Algal Bloom” (ایلگل بلوم) کہا جاتا ہے۔ ماہرینِ سمندری حیات اور ڈبلیو ڈبلیو ایف (WWF) پاکستان کے مطابق اس کی اہم وجوہات اور اثرات درج ذیل ہیں
پانی سبز کیوں ہوتا ہے؟
فائٹو پلینکٹن (Phytoplankton): سمندر میں خوردبینی پودے یا کائی نما جاندار ہوتے ہیں جنہیں فائٹو پلینکٹن کہا جاتا ہے۔ جب سمندر میں غذائی اجزاء (Nutrients) کی مقدار بڑھ جاتی ہے، تو ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جس سے پانی کا رنگ سبز یا گہرا نیلا نظر آنے لگتا ہے۔
موسمی تبدیلی: موسمِ سرما کے اختتام اور بہار کے آغاز میں سمندری درجہ حرارت میں تبدیلی اور ہواؤں کے رخ کی وجہ سے گہرائی سے غذائی اجزاء سطح پر آجاتے ہیں (جسے Upwelling کہتے ہیں)، جو اس عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔
ماہرین کی رائے اور خدشات
آکسیجن کی کمی: ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کائی بہت زیادہ پھیل جائے تو سمندری پانی میں آکسیجن کی مقدار کم ہو سکتی ہے، جس سے مچھلیاں اور دیگر آبی جاندار دم گھٹنے سے مر سکتے ہیں۔
زہریلے اثرات: بعض اوقات کچھ مخصوص اقسام کی کائی (Harmful Algal Blooms) زہریلے مادے خارج کرتی ہے، جو نہ صرف مچھلیوں بلکہ ان مچھلیوں کو کھانے والے پرندوں اور انسانوں کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
ماہی گیری پر اثر: اس عمل کے دوران مچھلیاں اکثر گہرے پانی میں چلی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے مقامی ماہی گیروں کے لیے شکار مشکل ہو جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال
گوادر، پسنی اور اورماڑا جیسے علاقوں میں یہ منظر اکثر دیکھا جاتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ جب پانی کا رنگ تبدیل ہو اور وہاں مردہ مچھلیاں نظر آئیں، تو ماہی گیروں اور شہریوں کو احتیاط کرنی چاہیے اور اس پانی میں نہانے یا وہاں کی مچھلی کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
کیا آپ اس حوالے سے کسی مخصوص علاقے (جیسے گوادر یا پسنی) کی تازہ صورتحال کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟

The sea turning green is often caused by algal bloom, which is a natural process. However, if it spreads excessively, it can negatively affect marine life and fishing activities. It’s important for people to follow experts’ advice and take precautions in such situations. Thanks for sharing awareness about this important topic
Thank you so much