پاک-افغان سرحد: 2026 کی ‘کھلی جنگ’ اور مقبوضہ علاقوں کا تنازع

پاک-افغان سرحد: 2026 کی ‘کھلی جنگ’ اور مقبوضہ علاقوں کا تنازع

تحریر: ٹیم ڈیپ ڈائیو (Deep Dive) تاریخ: 2 اپریل 2026

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخ کے نازک ترین موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ وہ سرحد جسے کبھی “برادرانہ سرحد” کہا جاتا تھا، اب ایک باقاعدہ میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اپریل 2026 کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ بھاری ہتھیاروں اور فضائی حملوں تک جا پہنچی ہے۔

تنازع کی حالیہ لہر: فروری سے اب تک

اس تازہ ترین تصادم کا آغاز فروری 2026 میں اس وقت ہوا جب پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ حملے ٹی ٹی پی (TTP) کے خلاف تھے، جبکہ افغان طالبان نے اسے اپنی خود مختاری پر حملہ قرار دے کر جوابی کارروائی شروع کی۔ بی بی سی اردو کی رپورٹس کے مطابق، اس جنگ نے اب ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے جہاں سرحد کے دونوں اطراف سے بھاری گولہ باری جاری ہے۔

ڈیورنڈ لائن اور ‘مقبوضہ علاقوں’ کا دعویٰ

اس پورے مسئلے کی جڑ وہ 2600 کلومیٹر طویل سرحد ہے جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے۔

تاریخی پس منظر: یہ لکیر 1893 میں برطانوی ہند اور افغان امیر کے درمیان کھینچی گئی تھی۔ پاکستان اسے ایک قانونی بین الاقوامی سرحد مانتا ہے۔

افغان موقف: طالبان حکومت اور قوم پرست افغان اسے تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ “مقبوضہ علاقہ” ہے جو برطانوی دور میں افغانستان سے الگ کیا گیا تھا۔

باڑ کا تنازع: پاکستان کی جانب سے لگائی گئی خاردار باڑ کو طالبان اپنی زمین پر قبضہ قرار دیتے ہیں۔ حالیہ جھڑپوں کی بڑی وجہ طالبان کی جانب سے اس باڑ کو توڑنے کی کوششیں بھی ہیں۔

غدوانہ (Ghudwana) کا نیا محاذ

2026 کے تازہ ترین واقعات میں سب سے اہم غدوانہ کے علاقے کا تنازع ہے۔ سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستانی فورسز نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پکتیکا کے قریب کچھ علاقوں کا کنٹرول سنبھالا ہے، جسے افغان حکام نے “زمین پر قبضہ” قرار دیا ہے۔ اس معاملے نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

عوام پر اثرات: ایک انسانی المیہ

اس ‘کھلی جنگ’ کی سب سے بڑی قیمت عام شہری چکا رہے ہیں:

نقل مکانی: اب تک 115,000 سے زائد افراد سرحد کے دونوں اطراف سے محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔

معاشی نقصان: طورخم اور چمن بارڈر کی بندش سے روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ پھلوں اور سبزیوں سے لدے ٹرک دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔

پناہ گزینوں کی واپسی: پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی زبردستی واپسی نے کابل میں ایک نیا انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔

نتیجہ: کیا مذاکرات ممکن ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ڈیورنڈ لائن کی حیثیت اور دہشت گردی کے خاتمے پر دونوں ممالک ایک پیج پر نہیں آتے، یہ خونریز سلسلہ جاری رہے گا۔ عالمی برادری، بشمول چین اور اقوام متحدہ، دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن زمین پر صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔


مزید ایسی معلوماتی اسٹوریز اور بلاگز کے لیے ہماری ویب سائٹ “Deep Dive” وزٹ کرتے رہیں اور ہمیں فیس بک پر فالو کریں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *