رائٹرز اور دیگر عالمی خبر رساں اداروں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات کا پہلا دور اگرچہ کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے وفود کے رواں ہفتے دوبارہ اسلام آباد آنے کے قوی امکانات ہیں۔
اس اہم سفارتی پیش رفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
۔ مذاکرات کا پہلا دور اور موجودہ صورتحال
پیش رفت: ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین ایک معاہدے کے 80 فیصد تک قریب پہنچ چکے تھے اور 15 میں سے 11 امریکی شرائط پر اتفاق رائے ہو چکا تھا۔
تاریخی ملاقات: 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں وفود کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔ یہ 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بلند ترین سطح کا رابطہ تھا۔
تعطل کی وجہ: جے ڈی وینس کے مطابق، مذاکرات میں تعطل کی بڑی وجہ ایران کا ایٹمی پروگرام اور امریکی شرائط (خاص طور پر ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت) پر اتفاق نہ ہونا تھا۔
۔ دوبارہ واپسی کی امید (رائٹرز کی رپورٹ)
رائٹرز نے منگل (14 اپریل) کو چار مختلف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ:
ایرانی ردعمل: پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے بات چیت جاری ہے۔
دوسرا دور: امریکی اور ایرانی تکنیکی ٹیمیں اور اعلیٰ حکام رواں ہفتے ہی دوبارہ اسلام آباد کا رخ کر سکتے ہیں تاکہ ادھورے رہ جانے والے نکات کو حل کیا جا سکے۔
امریکی موقف: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اشارہ دیا کہ ایرانیوں نے ان سے رابطہ کیا ہے اور وہ “معاہدہ کرنا چاہتے ہیں”۔
۔ پاکستان کا کلیدی کردار
پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک “پل” کا کردار ادا کر رہا ہے:
چینی حمایت: رپورٹ کے مطابق، اس پورے عمل میں چین بھی پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور وہ اس ممکنہ معاہدے کے لیے ضمانتیں فراہم کر سکتا ہے۔
ثالثی: وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی ٹیم دونوں وفود کو دوبارہ میز پر لانے کے لیے سرگرم ہے۔
آبنائے ہرمز کا مسئلہ: پاکستان کی کوشش ہے کہ کسی طرح آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بحال کرایا جائے تاکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام آ سکے۔
۔ مذاکرات کے اہم نکات
آنے والے دنوں میں ہونے والے مذاکرات میں درج ذیل موضوعات پر توجہ مرکوز رہے گی:
ایران کے منجمد اثاثوں (تقریباً 6 ارب ڈالر) کی واگزاری۔
لبنان میں مستقل جنگ بندی۔
ایران کے ایٹمی ریڈ لائنز اور یورینیم کی افزودگی پر پابندی۔
عالمی تجارت کے لیے بحری راستوں کی حفاظت۔
خلاصہ: اگرچہ پہلا مرحلہ بغیر دستخط کے ختم ہوا، لیکن سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اسلام آباد میں “بریک تھرو” (Breakthrough) کی امید ابھی ختم نہیں ہوئی اور چند روز میں ہونے والی دوبارہ ملاقات فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
