ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ جنگ (جسے 2026 ایران وار یا آپریشن ایپک فیوری کہا جا رہا ہے) آج 17 مارچ 2026 کو اپنے 18ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور لڑائی کے اثرات پورے خطے میں پھیل چکے ہیں۔
تازہ ترین صورتحال کے اہم نکات درج ذیل ہیں
تازہ ترین حملے اور جانی نقصان
تہران اور بیروت پر بمباری: اسرائیلی فوج (IDF) نے آج تہران اور بیروت میں “وسیع پیمانے پر” فضائی حملے کیے ہیں۔ تہران میں حکومتی ڈھانچے اور بیروت میں حزب اللہ کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اصفہان میں جانی نقصان: اصفہان کے صنعتی علاقے پر ہونے والے حالیہ حملوں میں 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایران کی جوابی کارروائی: ایران نے اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائلوں کی نئی لہر داغی ہے، جس کے باعث تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں سائرن بج اٹھے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں ‘خیبر شکن’، ‘عماد’ اور ‘قدر’ میزائل استعمال کیے گئے۔
علاقائی اثرات (دبئی، دوحہ اور بغداد)
خلیجی ممالک پر حملے: ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کے ملبے سے ابوظہبی (بنی یاس) میں ایک پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے کی افسوسناک خبر آئی ہے۔
فضائی حدود کی بندش: متحدہ عرب امارات (UAE) نے حفاظتی اقدامات کے طور پر اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی تھیں۔ دبئی اور دوحہ (قطر) میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جو ممکنہ طور پر دفاعی نظام کے ذریعے میزائلوں کو روکنے کے نتیجے میں تھیں۔
بغداد میں امریکی سفارت خانہ: بغداد میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون اور راکٹ حملے کیے گئے ہیں، جس کے بعد وہاں سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا۔
سفارتی اور فوجی صورتحال
قیادت میں تبدیلی: جنگ کے آغاز (28 فروری) پر ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد اب مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے بیانات سامنے آ رہے ہیں، تاہم ان کی صورتحال کے بارے میں متضاد دعوے موجود ہیں۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz): ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم بحری راستے کی حفاظت کے لیے جنگی جہاز بھیجیں۔

