
گزشتہ رات دیر گئے شارجہ سے کراچی آنے والا ایک مال بردار بوئنگ 737 طیارہ کراچی کے ساحل کے قریب بحیرہ عرب میں گر کر لاپتہ ہو گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس بدقسمت طیارے میں عملے کے 5 ارکان سوار تھے، جن کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جا رہے ہیں۔
🔍 واقعے کی تفصیلات اور ٹائم لائن
پرواز کا آغاز: طیارے نے متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی کے لیے اڑان بھری تھی۔ یہ ایک شیڈولڈ کارگو (مال بردار) پرواز تھی۔
تکنیکی خرابی کی اطلاع: کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ سے کچھ ہی دیر قبل، طیارے کے پائلٹ نے ائیر ٹریفک کنٹرول کو نیویگیشن سسٹم میں شدید خرابی کی اطلاع دی۔
رابطہ منقطع ہونا: اس ہنگامی پیغام کے فوری بعد، طیارے کا ریڈار سے رابطہ اچانک منقطع ہو گیا اور وہ اسکرین سے غائب ہو گیا۔
آخری لوکیشن: طیارے کی آخری معلوم لوکیشن کراچی کے ساحل کے قریب کھلے سمندر (بحیرہ عرب) میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
🚢 بڑے پیمانے پر سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری
طیارے کے لاپتہ ہوتے ہی پاکستانی حکام حرکت میں آ گئے اور فوری طور پر بحیرہ عرب میں ایک وسیع تر مشترکہ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
۔ پاک بحریہ کا کردار
پاک بحریہ کا جدید ترین جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار اور امدادی کشتیاں فوری طور پر اس مقام کی طرف روانہ کر دی گئی ہیں جہاں ریڈار پر طیارے کی آخری لوکیشن دیکھی گئی تھی۔ بحریہ کے غوطہ خور اور تکنیکی ٹیمیں بھی ملبے اور عملے کی تلاش کے لیے مستعد ہیں۔
۔ پاک فضائیہ کی معاونت
پاک فضائیہ کے فضائی اثاثے بشمول ہیلی کاپٹرز اور سمندری نگرانی کرنے والے طیارے کھلے سمندر میں فضائی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ اندھیرے اور موجوں کے باوجود طیارے کے ملبے یا کسی بھی قسم کے سراغ کا جلد از جلد پتا لگایا جا سکے۔
⚠️ موجودہ صورتحال اور چیلنجز
اہم نوٹ: رات کے وقت سمندر میں اندھیرے، تیز ہواؤں اور لہروں کے باعث ابتدائی طور پر ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم دن کی روشنی نمودار ہوتے ہی سرچ آپریشن کو مزید تیز اور وسیع کر دیا گیا ہے۔
ائیرپورٹ ذرائع اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے جو پائلٹ کی آخری گفتگو اور بلیک باکس (ملنے کی صورت میں) کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر حادثے کی اصل وجہ کا تعین کرے گی۔
تادمِ تحریر، عملے کے ارکان یا طیارے کے ملبے سے متعلق کوئی حتمی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے، اور تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔