تاریخ میں پہلی بار:   شمسی توانائی نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا 2025

تاریخ میں پہلی بار: شمسی توانائی نے عالمی ریکارڈ توڑ دیا 2025

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کی اپریل 2026 میں جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سال 2025 توانائی کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی جدید قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) کے ذریعے عالمی توانائی کی طلب میں اضافے کا سب سے بڑا حصہ پورا کیا گیا ہے۔

اس تاریخی پیشرفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

شمسی توانائی کا عالمی ریکارڈ

2025 میں شمسی توانائی (Solar PV) عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے والا سب سے بڑا واحد ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔

طلب میں حصہ: عالمی توانائی کی طلب میں ہونے والے کل اضافے کا 25% سے زیادہ حصہ صرف شمسی توانائی سے پورا کیا گیا۔

پیداواری صلاحیت: 2025 میں تقریباً 605 گیگا واٹ (GW) کے نئے سولر سسٹم نصب کیے گئے، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہیں۔

بجلی کی پیداوار: شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار میں 600 ٹیرواٹ آور (TWh) کا ریکارڈ اضافہ ہوا، جو کسی بھی ٹیکنالوجی کے لیے ایک سال میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا ڈھانچہ جاتی (structural) اضافہ ہے۔

“بجلی کا عہد” (Age of Electricity)

IEA کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، فاتح بیرول کے مطابق، دنیا اب “بجلی کے عہد” میں داخل ہو چکی ہے۔

بجلی کی طلب مجموعی توانائی کی طلب کے مقابلے میں دوگنا تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

بیٹری سٹوریج: سولر کے ساتھ ساتھ بیٹری سٹوریج میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 2025 میں 110 گیگا واٹ کی نئی بیٹری سٹوریج صلاحیت شامل کی گئی، جس نے گیس پاور پلانٹس کے سالانہ اضافے کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

اہم ممالک کا کردار

اس عالمی کامیابی میں کچھ ممالک اور خطوں کا کردار انتہائی نمایاں رہا:

چین: دنیا بھر میں ہونے والے سولر اضافے کا تقریباً 61% (368 GW) حصہ اکیلے چین نے فراہم کیا۔

یورپی یونین اور بھارت: یورپی یونین نے تقریباً 70 گیگا واٹ اور بھارت نے 48 گیگا واٹ کے ساتھ بالترتیب دوسرا اور تیسرا مقام حاصل کیا۔

امریکا: امریکا میں شمسی توانائی کی تنصیبات میں معمولی کمی دیکھی گئی، لیکن وہاں گیس اور کوئلے کی طلب میں عارضی اضافہ ہوا۔

ماحولیاتی اثرات اور کوئلے کی پسپائی

شمسی توانائی کے اس بے پناہ اضافے نے روایتی ایندھن پر دباؤ بڑھا دیا ہے:

کوئلہ: چین اور بھارت جیسے بڑے ممالک میں سولر کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں کوئلے کے استعمال میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔

کاربن اخراج: 2025 میں عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کے اخراج کی شرح میں کمی واقع ہوئی، جس کی بڑی وجہ کلین انرجی کا استعمال ہے۔

مستقبل کی پیش گوئی

IEA کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ شمسی توانائی اب صرف ایک متبادل نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔ کم لاگت، جدید ٹیکنالوجی اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے 2030 تک قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں مزید کئی گنا اضافے کی توقع ہے، جس میں 80% حصہ صرف سولر پی وی کا ہوگا۔

خلاصہ: 2025 اس لیے یاد رکھا جائے گا کیونکہ اس سال سورج کی روشنی دنیا کی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن کر سامنے آئی، جس نے گیس اور کوئلے جیسے روایتی ذرائع کو پیچھے چھوڑ دیا۔


Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *