(Code of Conduct) پر رواں سال کے اندر دستخط ہو جائیں گے تاکہ علاقائی تنازعات کو کم کیا جا سکے۔

(Code of Conduct) پر رواں سال کے اندر دستخط ہو جائیں گے تاکہ علاقائی تنازعات کو کم کیا جا سکے۔

انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریٹنو مرسودی کا حالیہ بیان بحیرہ جنوبی چین (South China Sea) میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیا، جو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (ASEAN) میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اس کوشش میں ہے کہ چین اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان ایک قانونی فریم ورک یعنی ضابطہ اخلاق (Code of Conduct – COC) کو حتمی شکل دی جائے۔

ذیل میں اس معاملے کی تفصیلات اور اس کی اہمیت کا جائزہ لیا گیا ہے:


ضابطہ اخلاق (COC) کیا ہے؟

ضابطہ اخلاق ایک ایسا مجوزہ معاہدہ ہے جس کا مقصد بحیرہ جنوبی چین میں تنازعات کو حل کرنے کے لیے اصول و ضوابط طے کرنا ہے۔

بنیاد: اس کی بنیاد 2002 کے “اعلان برائے طرز عمل” (DOC) پر رکھی گئی ہے، لیکن وہ قانونی طور پر لازم نہیں تھا۔

مقصد: اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ سمندری حدود میں کسی بھی فوجی تصادم کو روکا جائے اور قدرتی وسائل (تیل، گیس اور مچھلیوں) کی تقسیم کو پرامن بنایا جائے۔

انڈونیشیا کا موقف اور کردار

اگرچہ انڈونیشیا بحیرہ جنوبی چین کے مرکزی تنازع میں براہ راست فریق نہیں ہے، لیکن اس کے ناتونا جزائر کے قریب واقع خصوصی اقتصادی زون (EEZ) پر چین کی “نائن ڈیش لائن” (Nine-dash line) کے اثرات پڑتے ہیں۔

ثالثی کا کردار: انڈونیشیا نے ہمیشہ ایک غیر جانبدار اور فعال ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

رواں سال کا ہدف: انڈونیشیا کی وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مذاکرات میں تیزی لا کر اسی سال دستخط کیے جائیں تاکہ خطے میں استحکام پیدا ہو۔


اہم رکاوٹیں اور چیلنجز

مذاکرات کی رفتار سست ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے:

قانونی حیثیت: کیا یہ ضابطہ اخلاق قانونی طور پر لازم (Legally Binding) ہوگا یا نہیں؟ آسیان ممالک اس پر اصرار کر رہے ہیں جبکہ چین اس معاملے میں محتاط ہے۔

جغرافیائی حدود: یہ ضابطہ کن علاقوں پر لاگو ہوگا؟ اس پر تاحال مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

تیسری قوتوں کا کردار: امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اس خطے میں موجودگی اور چین کا ان کی مداخلت پر اعتراض مذاکرات کو پیچیدہ بناتا ہے۔

اس معاہدے کی اہمیت کیوں ہے؟

اگر اس سال دستخط ہو جاتے ہیں، تو اس کے درج ذیل مثبت اثرات مرتب ہوں گے:

کشیدگی میں کمی: فلپائن، ویتنام اور چین کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والے چھوٹے پیمانے کے تصادم رک سکتے ہیں۔

تجارت کا تحفظ: بحیرہ جنوبی چین سے سالانہ کھربوں ڈالر کی عالمی تجارت گزرتی ہے۔ استحکام سے عالمی معیشت کو فائدہ ہوگا۔

آسیان کا اتحاد: یہ معاہدہ ثابت کرے گا کہ آسیان ممالک اپنے علاقائی مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


خلاصہ

انڈونیشیا کی کوششیں ایک “قواعد پر مبنی نظام” (Rules-based order) کے قیام کے لیے ہیں۔ وزیر خارجہ ریٹنو مرسودی کا یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ اب سفارتی سطح پر صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور خطہ مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر چین اور آسیان اس پر متفق ہو جاتے ہیں، تو یہ ایشیا پیسیفک کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *