دنیا کا خشک ترین صحرا: چلی کا اٹاکاما

دنیا کا خشک ترین صحرا: چلی کا اٹاکاما

کیا آپ ایک ایسی جگہ کا تصور کر سکتے ہیں جہاں دہائیوں بلکہ صدیوں تک بارش کا ایک قطرہ نہ گرا ہو؟ جہاں زمین اتنی بنجر اور خشک ہو کہ خلائی اداروں کو اپنے مریخ پر جانے والے جہازوں اور گاڑیوں کی آزمائش کے لیے وہاں جانا پڑے؟

جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں جنوبی امریکہ کے ملک چلی میں واقع اٹاکاما صحرا کی۔ یہ ہماری زمین پر برفانی قطبین کے علاوہ سب سے زیادہ خشک ترین جگہ ہے۔

اٹاکاما کی حیران کن باتیں

۱. بارش کا نہ ہونا

اٹاکاما کا شمار دنیا کے سب سے پرانے اور خشک ترین صحراؤں میں ہوتا ہے۔ اس کے وسطی علاقے میں اوسطاً سالانہ ایک ملی میٹر سے بھی کم بارش ہوتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کچھ موسمی مراکز کے ریکارڈ کے مطابق وہاں کبھی بھی باقاعدہ بارش نہیں دیکھی گئی۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اٹاکاما کے کچھ حصوں میں تقریباً چار سو سال تک مسلسل کوئی بارش نہیں ہوئی تھی!

۲. بادل کیوں نہیں برستے؟

اٹاکاما ایک ایسی جغرافیائی جگہ پر واقع ہے جسے سائنس میں بارش سے محروم علاقہ کہا جاتا ہے۔ ایک طرف انڈیز کے بلند ترین پہاڑ ہیں جو مشرق سے آنے والی بارش کی نمی کو روک لیتے ہیں، اور دوسری طرف بحر الکاہل کی ٹھنڈی ہوائیں ہیں جو بادل بننے نہیں دیتیں۔ اس انوکھے قدرتی نظام کی وجہ سے یہ علاقہ بارش سے بالکل محروم رہتا ہے۔

۳. مریخ جیسی زمین

اٹاکاما کی مٹی اور ماحول زمین پر مریخ کے ماحول سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ یہاں کی مٹی اتنی خشک اور نامیاتی مادے سے پاک ہے کہ یہاں باریک ترین جرثوموں کا وجود بھی مشکل سے ملتا ہے۔ اسی لیے امریکہ کا خلائی ادارہ اپنی مریخ کی گاڑیوں اور سائنسی آلات کی آزمائش اسی صحرا میں کرتا ہے۔

۴. ستاروں کی دنیا کا دروازہ

چلی کے اس صحرا کی ایک اور خوبصورتی اس کا بالکل صاف اور نیلا آسمان ہے۔ بادلوں اور نمی کی غیر موجودگی، اور انسانی آبادی کی آلودگی نہ ہونے کے باعث، یہ جگہ کائنات اور ستاروں کا مشاہدہ کرنے کے لیے دنیا کی بہترین جگہ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی اور جدید ترین دوربینیں اسی صحرا میں نصب ہیں۔

خشک زمین پر زندگی کا معجزہ

اگرچہ یہ صحرا انتہائی بنجر ہے، لیکن انسان اور قدرت ہر جگہ اپنا راستہ بنا لیتے ہیں:

دھند سے پانی حاصل کرنا: یہاں رہنے والے مقامی لوگ اور جانور سمندر سے آنے والی شدید دھند اور کہر سے نمی حاصل کر کے پانی پیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے خاص قسم کے جال لگائے جاتے ہیں جو ہوا سے پانی کے قطرے نچوڑتے ہیں۔

حفاظت سے محفوظ لاشیں: انتہائی خشک موسم کی وجہ سے ہزاروں سال پرانی چیزیں بھی خراب نہیں ہوتیں۔ یہاں ملنے والی قدیم انسانوں کی حنوط شدہ لاشیں مصر کی حنوط شدہ لاشوں سے بھی پرانی ہیں اور قدرتی طور پر خشک ہوا کی وجہ سے اب تک محفوظ ہیں۔

حاصلِ کلام

چلی کا اٹاکاما صحرا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری زمین کتنی حیران کن اور متنوع ہے۔ بارش نہ ہونے کے باوجود، یہ بنجر صحرا سائنس دانوں، خلائی تحقیق، اور دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے ایک بے مثال اور پراسرار مرکز بنا ہوا ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *