سمندر کے نیچے انٹرنیٹ کیسے چلتا ہے؟ 🌐

سمندر کے نیچے انٹرنیٹ کیسے چلتا ہے؟ 🌐

سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی کیبلز دنیا کو آپس میں کیسے جوڑتی ہیں؟

آج کے دور میں انٹرنیٹ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ ہم اپنے موبائل فون سے چند سیکنڈ میں پاکستان سے سعودی عرب، امریکہ، چین یا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں پیغام بھیج سکتے ہیں۔ ہم ویڈیو کال کرتے ہیں، یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، ویب سائٹس کھولتے ہیں اور دنیا بھر کی معلومات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب آپ پاکستان میں بیٹھ کر امریکہ کی کسی ویب سائٹ کو کھولتے ہیں تو آپ کا ڈیٹا ہزاروں کلومیٹر کا سفر کیسے طے کرتا ہے؟ کیا یہ سارا ڈیٹا خلا میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے سفر کرتا ہے؟ یا سمندر کی تہہ میں کوئی ایسا نظام موجود ہے جو پوری دنیا کو آپس میں جوڑتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ممالک کے درمیان انٹرنیٹ کا زیادہ تر بین الاقوامی ڈیٹا سمندر کے نیچے بچھائی گئی فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ یہ کیبلز دنیا کے مختلف براعظموں، ممالک اور انٹرنیٹ کے بڑے مراکز کو آپس میں جوڑتی ہیں۔

آئیے آسان زبان میں سمجھتے ہیں کہ یہ حیرت انگیز نظام کیسے کام کرتا ہے۔

۔ سمندر کے نیچے انٹرنیٹ کیبلز کیا ہیں؟

یہ کیبلز دنیا کے جدید مواصلاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔

سمندر کے نیچے بچھائی جانے والی انٹرنیٹ کیبلز کو انگریزی میں Submarine Fiber Optic Cables کہا جاتا ہے۔ یہ عام بجلی کی تاروں جیسی نہیں ہوتیں، بلکہ خاص طور پر ڈیجیٹل معلومات کو روشنی کی مدد سے منتقل کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔

ان کیبلز کے اندر انتہائی باریک شیشے یا خصوصی شفاف مادے کے ریشے ہوتے ہیں، جنہیں فائبر آپٹک کہا جاتا ہے۔ ان ریشوں کے ذریعے روشنی کے سگنلز سفر کرتے ہیں اور یہی سگنلز ڈیجیٹل معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔

ان کیبلز کی کچھ اہم خصوصیات یہ ہیں:

  • یہ ہزاروں کلومیٹر تک سمندر کی تہہ میں بچھائی جا سکتی ہیں۔
  • ان کے ذریعے بہت بڑی مقدار میں ڈیٹا منتقل کیا جا سکتا ہے۔
  • ان میں روشنی کی مدد سے ڈیٹا منتقل ہوتا ہے، اس لیے یہ بہت تیز رفتار رابطہ فراہم کرتی ہیں۔
  • ان کی بیرونی تہیں انہیں پانی، دباؤ اور بعض جسمانی نقصانات سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
  • ساحل کے قریب کیبلز کو اکثر سمندر کی تہہ میں دفن کیا جاتا ہے تاکہ لنگر اور ماہی گیری کے سامان سے نقصان کا خطرہ کم ہو۔

۔ انٹرنیٹ کا ڈیٹا روشنی کے ذریعے کیسے سفر کرتا ہے؟

یہ اس پورے نظام کا سب سے دلچسپ حصہ ہے۔

جب آپ اپنے موبائل فون پر کسی دوست کو پیغام بھیجتے ہیں، کوئی تصویر اپ لوڈ کرتے ہیں یا ویڈیو دیکھتے ہیں تو آپ کا آلہ ڈیجیٹل ڈیٹا تیار کرتا ہے۔ کمپیوٹر اور موبائل فون اس ڈیٹا کو بائنری نظام، یعنی صفر اور ایک، کی صورت میں سمجھتے اور پروسیس کرتے ہیں۔

اس کے بعد نیٹ ورک کے آلات اس ڈیٹا کو منتقل کرنے کے لیے مناسب سگنلز میں تبدیل کرتے ہیں۔

فائبر آپٹک کیبل میں یہ معلومات روشنی کے سگنلز کے ذریعے سفر کرتی ہیں۔ روشنی شیشے کے اندر مخصوص اصولوں کے تحت آگے بڑھتی ہے اور راستے میں موجود نیٹ ورک آلات ضرورت کے مطابق سگنل کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر، تصور کریں کہ آپ سعودی عرب میں بیٹھ کر پاکستان میں کسی دوست کو تصویر بھیجتے ہیں۔

  1. آپ کا موبائل تصویر کو ڈیجیٹل ڈیٹا کی شکل میں تیار کرتا ہے۔
  2. ڈیٹا آپ کے وائی فائی روٹر یا موبائل نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ تک پہنچتا ہے۔
  3. آپ کے انٹرنیٹ فراہم کرنے والے کا نیٹ ورک اسے مناسب بین الاقوامی راستے پر بھیجتا ہے۔
  4. اگر منتخب راستہ سمندری فائبر آپٹک کیبل سے گزرتا ہے تو ڈیٹا روشنی کے سگنلز کی صورت میں اس کیبل کے اندر سفر کرتا ہے۔
  5. دوسرے ملک میں پہنچنے کے بعد ڈیٹا مختلف نیٹ ورکوں سے گزرتا ہوا منزل کے سرور یا وصول کنندہ تک پہنچ جاتا ہے۔

یہ سارا عمل اکثر ایک سیکنڈ کے بہت چھوٹے حصے میں مکمل ہو جاتا ہے، اگرچہ اصل وقت فاصلے، نیٹ ورک کے راستے، سرور اور دیگر حالات پر منحصر ہوتا ہے۔

۔ یہ کیبلز سمندر میں کیسے بچھائی جاتی ہیں؟

سمندر کے نیچے ہزاروں کلومیٹر طویل کیبل بچھانا ایک انتہائی پیچیدہ انجینئرنگ منصوبہ ہے۔ اس کام کے لیے خاص بحری جہاز استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں Cable-Laying Ships کہا جاتا ہے۔

ان جہازوں پر کیبل کے بڑے بڑے ذخیرے رکھے جاتے ہیں۔ ماہرین سمندر کی گہرائی، زمین کی ساخت، پانی کے اندر موجود رکاوٹوں اور محفوظ راستوں کا جائزہ لے کر کیبل کا راستہ طے کرتے ہیں۔

کیبل بچھانے کا عمل عام طور پر اس طرح ہوتا ہے:

پہلا مرحلہ: راستے کا سروے

سب سے پہلے سمندر کی تہہ کا سروے کیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہاں چٹانیں ہیں، کہاں گہرائی زیادہ ہے اور کہاں کیبل بچھانا نسبتاً محفوظ ہوگا۔

دوسرا مرحلہ: کیبل کی تیاری

کیبل کو مختلف حفاظتی تہوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ سمندر کے گہرے حصوں اور ساحل کے قریب استعمال ہونے والی کیبلز کی حفاظتی ساخت مختلف ہو سکتی ہے۔

تیسرا مرحلہ: جہاز کے ذریعے کیبل بچھانا

خصوصی جہاز آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور کیبل کو کنٹرول شدہ انداز میں سمندر میں چھوڑتا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران کیبل کی لمبائی اور اس پر پڑنے والے تناؤ کی نگرانی کی جاتی ہے۔

چوتھا مرحلہ: ساحل سے رابطہ

کیبل کو ساحلی اسٹیشن تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں اسے زمینی فائبر آپٹک نیٹ ورک کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔

پانچواں مرحلہ: جانچ اور آغاز

کیبل کے رابطوں، سگنلز اور ڈیٹا کی منتقلی کی جانچ کی جاتی ہے۔ تمام ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد اسے تجارتی استعمال کے لیے فعال کیا جا سکتا ہے۔

یہ منصوبے کئی سال کی منصوبہ بندی، بڑی سرمایہ کاری اور مختلف ممالک کے درمیان تعاون کا تقاضا کر سکتے ہیں۔

۔ سمندر کے نیچے کیبلز کو نقصان سے کیسے بچایا جاتا ہے؟

Amazon gets green light to build landing station for transatlantic cable connecting Cork and US

irishexaminer.com

سمندر کے اندر کیبلز کو کئی قسم کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ماہی گیری کے بڑے جال، بحری جہازوں کے لنگر، زیرِ سمندر لینڈ سلائیڈنگ، زلزلے اور دیگر قدرتی واقعات کیبل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اس لیے ان کی حفاظت کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

  • مضبوط حفاظتی تہیں: خطرے والے علاقوں میں کیبل کے گرد اضافی دھاتی تاروں اور دوسری حفاظتی تہوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • سمندر کی تہہ میں دفن کرنا: ساحل کے قریب کیبلز کو مخصوص آلات کی مدد سے سمندر کی تہہ میں دفن کیا جاتا ہے۔
  • محفوظ راستوں کا انتخاب: انجینئرز کیبل کے لیے ایسا راستہ منتخب کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں نقصان کا امکان کم ہو۔
  • مسلسل نگرانی: کیبل کے سگنلز اور نیٹ ورک کی کارکردگی پر نظر رکھی جاتی ہے تاکہ خرابی کی صورت میں اس کا مقام معلوم کرنے میں مدد ملے۔
  • مرمت کے خصوصی جہاز: اگر کیبل خراب ہو جائے تو خصوصی جہاز اس مقام تک پہنچ کر اسے بازیافت اور مرمت کر سکتے ہیں۔

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کوئی حفاظتی نظام ہر قسم کے نقصان کو مکمل طور پر نہیں روک سکتا۔ اسی لیے بین الاقوامی نیٹ ورک میں متبادل کیبلز اور دوسرے راستے بھی اہم ہوتے ہیں۔

۔ اگر سمندر کے نیچے انٹرنیٹ کیبل ٹوٹ جائے تو کیا ہوگا؟

Cabo de internet lendário recuperado do Atlântico: Como o TAT-8 fez história - paroquiadoamial.pt

paroquiadoamial.pt

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب پوری دنیا کے انٹرنیٹ نظام کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

فرض کریں کہ یورپ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا منتقل کرنے والی ایک اہم سمندری کیبل خراب ہو جاتی ہے۔ کیا اس کے بعد دونوں خطوں کا انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہو جائے گا؟

ضروری نہیں۔

دنیا کے مختلف حصوں کے درمیان متعدد سمندری کیبلز اور مختلف نیٹ ورک راستے موجود ہیں۔ اگر ایک کیبل خراب ہو جائے اور دوسرے راستے دستیاب ہوں تو نیٹ ورک آپریٹرز بہت سا ڈیٹا متبادل راستوں سے منتقل کر سکتے ہیں۔

تاہم، اس کے کچھ اثرات ہو سکتے ہیں:

  • انٹرنیٹ کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔
  • بعض ویب سائٹس یا آن لائن خدمات تک رسائی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
  • ویڈیو کالز اور آن لائن گیمز میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔
  • کسی خاص ملک یا علاقے میں انٹرنیٹ کی سروس عارضی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
  • اگر متبادل راستے بھی محدود ہوں تو مسئلہ زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔

خراب کیبل کی مرمت کیسے کی جاتی ہے؟

سب سے پہلے نیٹ ورک آپریٹرز کیبل میں خرابی کے مقام کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اس کے بعد مرمت کا خصوصی جہاز متاثرہ علاقے میں بھیجا جاتا ہے۔

جہاز سمندر کے نیچے موجود کیبل کو خاص آلات کی مدد سے تلاش کرکے اوپر لاتا ہے۔ خراب حصے کو الگ کیا جاتا ہے، کیبل کے درست حصوں کو دوبارہ جوڑا جاتا ہے اور پھر مرمت شدہ کیبل کو واپس سمندر میں اتار دیا جاتا ہے۔

گہرے پانی میں یہ کام بہت مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے مرمت میں کئی دن یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ موسم، سمندر کی گہرائی، نقصان کی نوعیت اور جہاز کی دستیابی اس مدت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

6۔ کیا انٹرنیٹ سیٹلائٹ کے ذریعے نہیں چلتا؟

Space in Azerbaijan | IAC 2023 Baku

iac2023.org

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ موبائل فون پر انٹرنیٹ استعمال کرتے وقت ہمارا تمام ڈیٹا سیٹلائٹ کے ذریعے خلا میں جاتا ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

انٹرنیٹ مختلف ٹیکنالوجیز کے امتزاج سے کام کرتا ہے، جن میں زمینی فائبر آپٹک نیٹ ورک، سمندری کیبلز، موبائل نیٹ ورک، وائی فائی اور سیٹلائٹ شامل ہیں۔

سمندری کیبلز بین الاقوامی ڈیٹا کی منتقلی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے انتہائی بڑی مقدار میں ڈیٹا منتقل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف سیٹلائٹ انٹرنیٹ ان علاقوں میں خاص طور پر مفید ہے جہاں زمینی کیبلز یا موبائل نیٹ ورک پہنچانا مشکل یا مہنگا ہو۔

مثلاً دور دراز دیہات، صحرا، سمندر میں موجود جہاز اور بعض فضائی سفر کے دوران سیٹلائٹ رابطہ اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

سیٹلائٹ کی قسم کے لحاظ سے اس کی کارکردگی مختلف ہوتی ہے۔ زمین سے بہت دور مدار میں موجود سیٹلائٹس میں سگنل کے سفر کی تاخیر زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ زمین کے نسبتاً قریب مدار میں موجود سیٹلائٹس کم تاخیر فراہم کر سکتے ہیں۔

اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ سیٹلائٹ اور سمندری کیبلز ایک دوسرے کے متبادل ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف حالات میں ایک دوسرے کی تکمیل بھی کرتے ہیں۔

7۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کیسے پہنچتا ہے؟

Focusing on Technology Limits Understanding of Internet Resilience: Pakistan Case Study — Internet Society Pulse

pulse.internetsociety.org

پاکستان میں انٹرنیٹ کے بین الاقوامی رابطے کے لیے سمندری فائبر آپٹک کیبلز اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ملک کے ساحلی علاقوں، خصوصاً کراچی کے آس پاس، بین الاقوامی کیبل نظام سے رابطے کے مقامات موجود ہیں۔

آئیے ایک آسان مثال سے سمجھتے ہیں۔

فرض کریں کہ آپ پاکستان میں اپنے موبائل فون پر کسی امریکی ویب سائٹ کو کھولتے ہیں۔

  1. آپ کا موبائل فون وائی فائی یا موبائل نیٹ ورک کے ذریعے قریبی نیٹ ورک سے رابطہ کرتا ہے۔
  2. آپ کا انٹرنیٹ فراہم کرنے والا درخواست کو اپنے نیٹ ورک کے ذریعے آگے بھیجتا ہے۔
  3. اگر منزل تک پہنچنے کے لیے بین الاقوامی فائبر آپٹک رابطہ استعمال ہوتا ہے تو ڈیٹا مناسب سمندری کیبل نظام سے گزر سکتا ہے۔
  4. دوسرے ملک میں ڈیٹا وہاں کے نیٹ ورک سے گزرتا ہوا ویب سائٹ کے سرور تک پہنچتا ہے۔
  5. سرور کی طرف سے واپس بھیجا گیا ڈیٹا بھی دستیاب نیٹ ورک راستوں کے ذریعے آپ کے موبائل تک پہنچ جاتا ہے۔

البتہ ہر درخواست لازماً کراچی سے نہیں گزرتی۔ اصل راستہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والے، نیٹ ورک کی ترتیب، منزل کے سرور اور دستیاب رابطوں کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں بین الاقوامی کیبلز کی خرابی بعض اوقات انٹرنیٹ کی رفتار اور سروس کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے، لیکن اس کا اثر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کتنی گنجائش باقی ہے اور متبادل راستے کتنے مؤثر ہیں۔

8۔ کیا شارک مچھلیاں انٹرنیٹ کیبلز کو کاٹ دیتی ہیں؟

Das erste große Atlantik-Glasfaserkabel verabschiedet sich in den Ruhestand: Am Ende war es einfach zu teuer, es zu reparieren

gamestar.de

انٹرنیٹ کیبلز کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ بھی مشہور ہے کہ شارک مچھلیاں انہیں کاٹ دیتی ہیں۔

ماضی میں بعض سمندری کیبلز کو شارک کے کاٹنے سے نقصان پہنچنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ خیال مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہے۔

تاہم، یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ شارک انٹرنیٹ کیبلز کی خرابی کی بنیادی یا عام وجہ ہیں۔ بہت سے کیبل نقصانات انسانی سرگرمیوں، خصوصاً ماہی گیری کے سامان اور بحری جہازوں کے لنگر، سے منسلک ہوتے ہیں۔ قدرتی واقعات بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

جدید کیبلز میں حفاظتی تہیں استعمال کی جاتی ہیں اور انجینئرز ایسے ڈیزائن تیار کرتے ہیں جو مختلف سمندری خطرات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہوں۔

لہٰذا اگر انٹرنیٹ کیبل خراب ہو جائے تو اس کی وجہ جاننے کے لیے تکنیکی تحقیقات ضروری ہوتی ہیں، نہ کہ فوراً شارک کو ذمہ دار قرار دینا۔

9۔ انٹرنیٹ کیبلز کے بغیر دنیا کا کیا ہوگا؟

Contact Us | Biozone Scientific

biozonescientific.com

تصور کریں کہ دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان موجود تمام سمندری فائبر آپٹک کیبلز اچانک کام کرنا بند کر دیں۔

ایسی صورت میں عالمی انٹرنیٹ اور بین الاقوامی مواصلات کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بہت سی ویب سائٹس، کاروباری نظام، ڈیجیٹل ادائیگیاں، کلاؤڈ سروسز اور ویڈیو کالز متاثر ہو سکتی ہیں، خصوصاً وہاں جہاں متبادل رابطے محدود ہوں۔

تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں ہر جگہ انٹرنیٹ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ مقامی نیٹ ورک، ملک کے اندر موجود سرورز اور کچھ سیٹلائٹ رابطے کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

اس کے باوجود بین الاقوامی ڈیٹا کی منتقلی کی گنجائش بہت کم ہو سکتی ہے اور مختلف ممالک کے درمیان رابطوں میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سمندری کیبلز کی حفاظت، مرمت اور ان کے متبادل راستوں کی دستیابی پوری دنیا کے لیے بہت اہم ہے۔

10۔ سمندر کے نیچے انٹرنیٹ کا مستقبل کیا ہے؟

Un año después del apagón, España rompe lo establecido y quiere instalar un cable submarino gigante que una la Península con Irlanda pero antes tiene que esquivar a Francia

okdiario.com

دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں، مصنوعی ذہانت، آن لائن ویڈیو، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل کاروبار کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

اس بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سمندری کیبل نظام میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے۔

مستقبل میں چند اہم رجحانات یہ ہو سکتے ہیں:

  • زیادہ ڈیٹا کی گنجائش: نئی کیبل ٹیکنالوجیز کے ذریعے پہلے سے زیادہ معلومات منتقل کرنے کی صلاحیت بڑھائی جا سکتی ہے۔
  • بہتر نیٹ ورک راستے: مختلف ممالک اور خطوں کو جوڑنے کے لیے نئے کیبل نظام تیار کیے جا سکتے ہیں۔
  • زیادہ قابلِ اعتماد رابطے: متبادل کیبلز اور متنوع راستوں سے کسی ایک خرابی کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
  • مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ سروسز: بڑے ڈیٹا سینٹرز کے درمیان تیز رفتار رابطوں کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔
  • بہتر نگرانی اور مرمت: جدید آلات سے خرابی کی شناخت اور کیبل کی مرمت کے عمل کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کا مستقبل صرف سیٹلائٹس یا صرف سمندری کیبلز پر منحصر نہیں ہوگا، بلکہ مختلف ٹیکنالوجیز کے مشترکہ استعمال سے دنیا کا ڈیجیٹل رابطہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

نتیجہ

سمندر کے نیچے بچھائی گئی انٹرنیٹ کیبلز جدید دنیا کے ان اہم نظاموں میں سے ہیں جن کے بارے میں عام طور پر بہت کم لوگ سوچتے ہیں۔ ہم روزانہ موبائل فون پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، پیغامات بھیجتے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں سے رابطہ کرتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے کاموں کے پیچھے سمندر کی تہہ میں موجود فائبر آپٹک نیٹ ورک کا اہم کردار ہوتا ہے۔

یہ کیبلز روشنی کے ذریعے ڈیٹا منتقل کرتی ہیں، خصوصی جہازوں سے بچھائی جاتی ہیں اور خرابی کی صورت میں پیچیدہ طریقوں سے مرمت کی جاتی ہیں۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ بھی اہم ہے، لیکن بین الاقوامی ڈیٹا کی بڑی مقدار منتقل کرنے میں سمندری کیبلز بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

اگلی بار جب آپ چند سیکنڈ میں کسی دوسرے ملک میں موجود شخص کو ویڈیو بھیجیں یا کسی غیر ملکی ویب سائٹ کو کھولیں، تو یاد رکھیے کہ ممکن ہے آپ کا ڈیٹا سمندر کی گہرائیوں میں بچھائی گئی ایک فائبر آپٹک کیبل سے گزر رہا ہو۔

یہی جدید ٹیکنالوجی کا کمال ہے کہ سمندر ہزاروں کلومیٹر چوڑا ہونے کے باوجود دنیا کو ڈیجیٹل طور پر ایک دوسرے کے قریب لے آیا ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *