موبائل فون ہمارے مقام کا کیسے پتا لگاتا ہے؟ اصل میں کیسے کام کرتا ہےجی پی ایس ؟ GPS

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب آپ اپنے موبائل پر نقشہ کھولتے ہیں تو چند سیکنڈ میں موبائل کو کیسے معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ اس وقت کہاں موجود ہیں؟

آپ گاڑی میں سفر کر رہے ہوں، کسی نئے شہر میں راستہ تلاش کر رہے ہوں، ٹیکسی منگوا رہے ہوں یا کسی دوست کو اپنی موجودہ جگہ بھیج رہے ہوں، موبائل فون حیرت انگیز رفتار سے آپ کے مقام کا اندازہ لگا لیتا ہے۔

لیکن آخر یہ سب ہوتا کیسے ہے؟

کیا موبائل فون کے اندر کوئی ایسا آلہ موجود ہے جو آسمان میں موجود سیٹلائٹس کو دیکھ رہا ہوتا ہے؟

کیا GPS انٹرنیٹ کے بغیر بھی کام کر سکتا ہے؟

موبائل ٹاور آپ کی جگہ کیسے معلوم کرتا ہے؟

اور اگر موبائل میں سم کارڈ نہ ہو تو کیا پھر بھی اس کا مقام معلوم کیا جا سکتا ہے؟

آئیے اس پورے نظام کو انتہائی آسان زبان میں سمجھتے ہیں۔


GPS کیا ہے؟

GPS کا مکمل نام گلوبل پوزیشننگ سسٹم ہے۔

یہ ایک ایسا سیٹلائٹ نظام ہے جو زمین پر موجود کسی مقام کی جگہ معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

GPS بنیادی طور پر امریکہ کے زیر انتظام سیٹلائٹ نظام ہے، لیکن دنیا میں مقام معلوم کرنے کے لیے صرف GPS ہی واحد نظام نہیں ہے۔

دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک کے اپنے سیٹلائٹ نیویگیشن نظام بھی موجود ہیں، مثلاً:

  • امریکہ کا GPS
  • یورپ کا Galileo
  • روس کا GLONASS
  • چین کا BeiDou

جدید موبائل فون اکثر ایک سے زیادہ سیٹلائٹ نیویگیشن نظام کے سگنلز استعمال کر سکتے ہیں۔

اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ موبائل کو زیادہ سیٹلائٹس سے سگنل ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور مقام معلوم کرنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے۔


زمین کے گرد سیٹلائٹس کیا کر رہے ہیں؟

آسمان میں موجود نیویگیشن سیٹلائٹس مسلسل ریڈیو سگنلز نشر کرتے رہتے ہیں۔

ان سگنلز میں سیٹلائٹ کے بارے میں اہم معلومات شامل ہوتی ہیں، جن کی مدد سے موبائل یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ سگنل کس سیٹلائٹ سے آیا اور وہ سگنل موبائل تک پہنچنے میں کتنا وقت لے کر آیا۔

یہاں ایک دلچسپ بات سمجھنا ضروری ہے:

GPS سیٹلائٹ آپ کے موبائل کو یہ نہیں بتاتا کہ “آپ یہاں موجود ہیں۔”

بلکہ موبائل مختلف سیٹلائٹس سے آنے والے سگنلز کو استعمال کرکے خود حساب لگاتا ہے کہ وہ کہاں موجود ہے۔


موبائل کو کم از کم کتنے سیٹلائٹس کی ضرورت ہوتی ہے؟

مقام کا درست اندازہ لگانے کے لیے موبائل عام طور پر متعدد سیٹلائٹس کے سگنلز استعمال کرتا ہے۔

سادہ الفاظ میں تصور کریں کہ آپ کسی بڑے میدان میں کھڑے ہیں اور آپ کو تین مختلف مقامات سے فاصلے کے بارے میں معلومات مل رہی ہیں۔

اگر آپ کو معلوم ہو کہ پہلے مقام سے آپ کا فاصلہ کتنا ہے، دوسرے مقام سے کتنا ہے اور تیسرے مقام سے کتنا ہے، تو ان معلومات کو ملا کر آپ کی پوزیشن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

حقیقی GPS نظام اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ریاضی اور وقت کی انتہائی درست پیمائش استعمال کرتا ہے۔


GPS اصل میں فاصلے کا حساب کیسے لگاتا ہے؟

یہ GPS کے پورے نظام کا سب سے دلچسپ حصہ ہے۔

سیٹلائٹ ایک سگنل بھیجتا ہے۔

موبائل اس سگنل کو وصول کرتا ہے۔

چونکہ ریڈیو سگنل روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرتا ہے، اس لیے سگنل کو سیٹلائٹ سے موبائل تک پہنچنے میں لگنے والے وقت کی مدد سے فاصلے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سادہ اصول یہ ہے:

فاصلہ = رفتار × وقت

لیکن چونکہ روشنی انتہائی تیز رفتار سے سفر کرتی ہے، اس لیے وقت کی معمولی سی غلطی بھی مقام میں بڑی غلطی پیدا کر سکتی ہے۔

اسی لیے GPS میں انتہائی درست وقت کا استعمال بہت اہم ہے۔


سیٹلائٹ کے اندر گھڑی کیوں ضروری ہے؟

GPS سیٹلائٹس میں انتہائی درست گھڑیاں موجود ہوتی ہیں۔

ان گھڑیوں کی مدد سے سیٹلائٹ سگنل کے وقت کو انتہائی درست انداز میں معلوم کیا جاتا ہے۔

موبائل بھی سگنل کے پہنچنے کے وقت کا اندازہ لگاتا ہے۔

پھر موبائل مختلف سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والی معلومات کو آپس میں ملا کر اپنی پوزیشن کا حساب کرتا ہے۔

یہ معمولی سا حساب چند سیکنڈ یا بعض حالات میں اس سے بھی کم وقت میں ہو سکتا ہے۔


“ٹری لیٹریشن” کیا ہے؟

GPS کی وضاحت کرتے وقت ایک اصطلاح اکثر استعمال ہوتی ہے:

ٹری لیٹریشن

یہ بنیادی طور پر مختلف معلوم فاصلوں کی مدد سے کسی مقام کا تعین کرنے کا طریقہ ہے۔

تصور کریں کہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ پہلے سیٹلائٹ سے ایک خاص فاصلے پر ہیں۔

اس فاصلے کے مطابق آپ کی ممکنہ جگہیں ایک دائرے کے اندر ہوں گی۔

اب دوسرے سیٹلائٹ سے فاصلے کی معلومات شامل کریں تو ممکنہ جگہیں کم ہو جاتی ہیں۔

پھر تیسرے سیٹلائٹ کی معلومات شامل کرنے سے مقام مزید واضح ہو جاتا ہے۔

حقیقی GPS زمین کی تین جہتی پوزیشن کے ساتھ وقت کی غلطی کو بھی حل کرتا ہے، اس لیے عملی نظام میں اضافی سیٹلائٹ سگنلز بہت اہم ہوتے ہیں۔


چوتھا سیٹلائٹ کیوں مددگار ہوتا ہے؟

موبائل فون کے اندر وہ انتہائی مہنگی اور انتہائی درست ایٹمی گھڑی موجود نہیں ہوتی جو GPS سیٹلائٹس میں استعمال ہوتی ہے۔

اس لیے موبائل کو صرف تین جہتی مقام معلوم کرنے کے ساتھ ساتھ وقت کی غلطی کو بھی حل کرنا ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے ایک اضافی سیٹلائٹ سگنل بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

متعدد سیٹلائٹس سے سگنلز حاصل کرکے موبائل اپنے مقام اور وقت کی غلطی کا بہتر اندازہ لگا سکتا ہے۔


کیا GPS کے لیے انٹرنیٹ ضروری ہے؟

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ GPS صرف انٹرنیٹ کے ساتھ کام کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بنیادی سیٹلائٹ پوزیشننگ کے لیے موبائل کو لازماً انٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔

موبائل براہ راست سیٹلائٹ سگنلز وصول کر سکتا ہے۔

لیکن انٹرنیٹ GPS کے مقام معلوم کرنے کے عمل کو تیز اور بہتر بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔

یہاں سے ایک اور اہم ٹیکنالوجی سامنے آتی ہے:

A-GPS یعنی Assisted GPS


A-GPS کیا ہے؟

A-GPS میں موبائل نیٹ ورک یا انٹرنیٹ سے اضافی معلومات حاصل کر سکتا ہے تاکہ سیٹلائٹ سے مقام معلوم کرنے کا عمل تیز ہو جائے۔

مثلاً موبائل کو پہلے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کون سے سیٹلائٹس اس وقت آسمان میں موجود ہیں اور ان کی ممکنہ پوزیشن کیا ہے۔

اس معلومات کی وجہ سے موبائل کو سیٹلائٹس تلاش کرنے میں کم وقت لگ سکتا ہے۔

اسی لیے بعض اوقات آپ نقشہ کھولتے ہی چند سیکنڈ میں اپنی جگہ دیکھ لیتے ہیں۔


موبائل ٹاور آپ کی جگہ کیسے معلوم کرتا ہے؟

اب GPS سے ہٹ کر موبائل نیٹ ورک کو سمجھتے ہیں۔

جب آپ کا موبائل کسی موبائل نیٹ ورک سے منسلک ہوتا ہے تو وہ قریبی موبائل ٹاورز کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔

نیٹ ورک کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا موبائل کس سیل یا نیٹ ورک ایریا میں موجود ہے۔

اگر موبائل کو صرف ایک ٹاور سے متعلق معلومات حاصل ہوں تو مقام کا اندازہ نسبتاً وسیع علاقے تک محدود ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر متعدد ٹاورز کے سگنلز دستیاب ہوں تو نیٹ ورک بعض تکنیکوں کے ذریعے موبائل کی پوزیشن کا زیادہ بہتر اندازہ لگا سکتا ہے۔

اس طریقے کو عام طور پر سیل ٹاور لوکیشن کہا جاتا ہے۔


GPS اور موبائل ٹاور میں کیا فرق ہے؟

دونوں طریقوں کا مقصد مقام معلوم کرنا ہے، لیکن ان کا طریقہ مختلف ہے۔

GPS

GPS بنیادی طور پر سیٹلائٹ سگنلز استعمال کرتا ہے۔

اس سے کھلے آسمان کے نیچے نسبتاً درست مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

موبائل ٹاور

موبائل ٹاور کا نظام قریبی سیلولر نیٹ ورک اور ٹاورز سے متعلق معلومات استعمال کرتا ہے۔

یہ عموماً GPS کے مقابلے میں کم درست ہو سکتا ہے، لیکن بعض حالات میں بہت مفید ہوتا ہے۔

مثلاً جب GPS سگنل کمزور ہو یا موبائل عمارت کے اندر ہو۔


وائی فائی بھی مقام معلوم کرنے میں کیسے مدد کرتا ہے؟

یہ بات بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہوتی ہے کہ Wi-Fi بھی مقام معلوم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

اگر آپ کسی شہر میں موجود ہیں تو آپ کے موبائل کو آس پاس موجود مختلف Wi-Fi نیٹ ورکس کے نام اور سگنلز کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

مقام معلوم کرنے والی خدمات کے پاس بعض اوقات Wi-Fi نیٹ ورکس کے مقامات سے متعلق معلومات موجود ہوتی ہیں۔

اگر موبائل کو معلوم ہو کہ مخصوص Wi-Fi نیٹ ورک عام طور پر کسی مخصوص مقام پر موجود ہے تو اس معلومات سے مقام کا اندازہ بہتر کیا جا سکتا ہے۔

یہ خاص طور پر شہروں اور عمارتوں کے اندر مددگار ہو سکتا ہے جہاں GPS سگنلز کمزور ہو سکتے ہیں۔


موبائل آپ کی جگہ معلوم کرنے کے لیے صرف GPS استعمال نہیں کرتا

جدید اسمارٹ فون میں مقام معلوم کرنے کے لیے مختلف ذرائع کو ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مثلاً:

GPS / سیٹلائٹ سگنلز + موبائل ٹاور + Wi-Fi + ڈیوائس کے سینسرز

ان تمام معلومات کو ملا کر موبائل آپ کے مقام کا بہتر اندازہ لگا سکتا ہے۔

اسی لیے کبھی کبھی موبائل آپ کی جگہ بہت تیزی سے ظاہر کر دیتا ہے، چاہے GPS کو مکمل طور پر سگنل حاصل کرنے میں کچھ وقت لگ رہا ہو۔


موبائل کے سینسرز کا کیا کردار ہے؟

موبائل فون میں کئی سینسرز موجود ہوتے ہیں۔

مثلاً:

  • ایکسلرومیٹر
  • جائروسکوپ
  • میگنیٹومیٹر

یہ سینسرز موبائل کی حرکت، سمت اور گھومنے کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

یہ خود GPS کا متبادل نہیں ہیں، لیکن مقام اور سمت کے اندازے کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

مثلاً اگر آپ گاڑی میں سفر کر رہے ہیں اور GPS سگنل کچھ لمحوں کے لیے کمزور ہو جائے تو موبائل اپنے پچھلے مقام اور حرکت کی معلومات کی بنیاد پر آپ کی موجودہ حرکت کا اندازہ جاری رکھ سکتا ہے۔


موبائل نقشے پر ہماری جگہ کیسے دکھاتا ہے؟

اب ایک دلچسپ سوال:

GPS نے آپ کا مقام معلوم کر لیا، لیکن پھر نقشے پر نیلا نقطہ کیسے آتا ہے؟

اس کے لیے دو الگ چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

پہلی چیز: آپ کے مقام کا جغرافیائی حساب۔

دوسری چیز: نقشے کا ڈیٹا۔

مثلاً GPS موبائل کو بتاتا ہے کہ آپ زمین پر تقریباً کس عرض بلد اور طول بلد پر موجود ہیں۔

نقشہ ایپ ان نقاط کو اپنے نقشے کے ڈیٹا کے ساتھ ملا کر دکھاتی ہے کہ یہ جگہ کس سڑک، علاقے یا عمارت کے قریب ہے۔


جب آپ راستہ تلاش کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟

فرض کریں آپ نے نقشے میں لکھا:

“مجھے فلاں جگہ جانا ہے۔”

سب سے پہلے موبائل آپ کی موجودہ پوزیشن معلوم کرتا ہے۔

پھر نقشہ ایپ منزل کی جگہ تلاش کرتی ہے۔

اس کے بعد سڑکوں، راستوں اور دیگر معلومات کو استعمال کرتے ہوئے ممکنہ راستہ تیار کیا جاتا ہے۔

اگر آپ گاڑی چلا رہے ہوں تو موبائل مسلسل آپ کی پوزیشن کو اپ ڈیٹ کرتا رہتا ہے۔

آپ کے آگے بڑھنے کے ساتھ نقشے پر موجود آپ کی پوزیشن بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔


GPS سگنل عمارت کے اندر کمزور کیوں ہو جاتا ہے؟

GPS سیٹلائٹس زمین سے بہت دور موجود ہوتے ہیں اور ان کے سگنلز نسبتاً کمزور ہوتے ہیں۔

جب آپ کھلے آسمان کے نیچے ہوتے ہیں تو موبائل کو سیٹلائٹس کے سگنلز حاصل کرنے میں عموماً آسانی ہوتی ہے۔

لیکن جب آپ کسی مضبوط کنکریٹ کی عمارت، تہہ خانے یا زیر زمین جگہ پر ہوں تو سگنل کمزور یا غیر واضح ہو سکتا ہے۔

اسی وجہ سے عمارتوں کے اندر موبائل بعض اوقات GPS کے بجائے Wi-Fi، موبائل نیٹ ورک اور دیگر معلومات پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔


درختوں اور پہاڑوں کا GPS پر کیا اثر ہوتا ہے؟

گھنے درخت، بلند عمارتیں، پہاڑ اور دیگر رکاوٹیں سیٹلائٹ سگنلز کے معیار کو متاثر کر سکتی ہیں۔

شہری علاقوں میں بلند عمارتوں سے سگنل ٹکرا کر مختلف راستوں سے موبائل تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسے ملٹی پاتھ کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔

اس صورت میں مقام معلوم کرنے میں کچھ غلطی پیدا ہو سکتی ہے۔


GPS ہمیشہ سو فیصد درست کیوں نہیں ہوتا؟

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ GPS ہمیشہ ایک ہی مقام پر بالکل درست نقطہ دکھائے گا۔

حقیقت میں مقام معلوم کرنے میں کچھ نہ کچھ غلطی ہو سکتی ہے۔

اس کی وجوہات میں شامل ہو سکتی ہیں:

  • سیٹلائٹ سگنلز کا معیار
  • عمارتوں اور درختوں کی رکاوٹ
  • ماحول اور فضا کے اثرات
  • سگنلز کا مختلف راستوں سے پہنچنا
  • دستیاب سیٹلائٹس کی تعداد اور پوزیشن
  • موبائل فون کی صلاحیت

اسی لیے نقشے پر دکھائی جانے والی جگہ کبھی کبھی حقیقی مقام سے کچھ فاصلے پر ہو سکتی ہے۔


کیا GPS ہماری گفتگو سنتا ہے؟

نہیں۔

GPS کا بنیادی کام مقام معلوم کرنا ہے۔

GPS خود آپ کی گفتگو ریکارڈ کرنے یا آپ کی آواز سننے کا نظام نہیں ہے۔

مقام معلوم کرنا اور موبائل کے مائیکروفون سے آواز حاصل کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔

البتہ مختلف موبائل ایپس کو مختلف اجازتیں دی جا سکتی ہیں، اس لیے صارف کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کسی ایپ کو کون سی اجازتیں دی ہوئی ہیں۔


کیا GPS کے بغیر بھی موبائل کی جگہ معلوم ہو سکتی ہے؟

جی ہاں۔

اگر GPS دستیاب نہ ہو تو موبائل بعض حالات میں دوسرے ذرائع سے مقام کا اندازہ لگا سکتا ہے۔

مثلاً:

موبائل ٹاورز، Wi-Fi نیٹ ورکس اور دیگر دستیاب معلومات۔

اسی وجہ سے کبھی کبھی موبائل گھر کے اندر بھی آپ کی جگہ کا مناسب اندازہ لگا لیتا ہے، حالانکہ اسے کھلے آسمان سے GPS کے بہترین سگنلز حاصل نہیں ہو رہے ہوتے۔


کیا موبائل بند ہونے کے بعد بھی GPS کام کرتا ہے؟

عام طور پر مکمل طور پر بند موبائل GPS کے ذریعے اپنی موجودہ پوزیشن معلوم نہیں کر رہا ہوتا۔

البتہ جدید ڈیوائسز میں کچھ خاص خصوصیات موجود ہو سکتی ہیں جو بند یا کم توانائی والی حالت میں بھی محدود نوعیت کی لوکیشن سے متعلق خدمات کو سپورٹ کریں۔

یہ خصوصیات فون کے ماڈل، آپریٹنگ سسٹم اور مخصوص سروس پر منحصر ہوتی ہیں۔

اس لیے “فون بند ہے تو کسی بھی صورت میں مقام معلوم نہیں ہو سکتا” کہنا ہر جدید ڈیوائس کے لیے درست نہیں ہوگا۔


GPS کے بغیر ہماری روزمرہ زندگی کتنی مشکل ہو سکتی ہے؟

آج GPS اور دیگر مقام معلوم کرنے والی ٹیکنالوجیز ہماری روزمرہ زندگی میں بہت گہرائی سے شامل ہو چکی ہیں۔

مثلاً:

  • آن لائن ٹیکسی
  • نقشے اور راستہ تلاش کرنا
  • فوڈ ڈیلیوری
  • گاڑیوں کی نیویگیشن
  • جہاز اور بحری سفر
  • ہنگامی خدمات
  • مقام شیئر کرنا
  • فلیٹ مینجمنٹ
  • زراعت
  • سروے اور تعمیراتی کام
  • مختلف سائنسی اور صنعتی سرگرمیاں

ان سب میں درست مقام کی معلومات بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔


ایک عام مثال سے پورا نظام سمجھیں

فرض کریں آپ اپنی گاڑی میں ایک نئے شہر میں سفر کر رہے ہیں۔

آپ نے موبائل پر نقشہ کھولا۔

سب سے پہلے موبائل دستیاب سیٹلائٹس کے سگنلز حاصل کرتا ہے۔

سیٹلائٹس کے سگنلز سے موبائل آپ کے مقام کا حساب لگاتا ہے۔

اگر انٹرنیٹ دستیاب ہے تو موبائل نیٹ ورک سے اضافی معلومات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

قریب موجود موبائل ٹاورز اور Wi-Fi نیٹ ورکس سے بھی مقام کا اندازہ بہتر ہو سکتا ہے۔

موبائل کے سینسرز گاڑی کی حرکت اور سمت کے بارے میں اضافی معلومات دے سکتے ہیں۔

پھر نقشہ ایپ ان تمام معلومات کو ملا کر آپ کی موجودہ پوزیشن نقشے پر دکھاتی ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو اسکرین پر ایک چھوٹا سا نقطہ اپنی گاڑی کے ساتھ حرکت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔


سب سے حیرت انگیز بات کیا ہے؟

اس پورے نظام میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ کے ہاتھ میں موجود ایک چھوٹا سا موبائل فون زمین کے گرد گردش کرنے والے سیٹلائٹس سے آنے والے انتہائی کمزور ریڈیو سگنلز کو حاصل کرکے اپنی جگہ کا حساب لگا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ زمین پر موجود موبائل نیٹ ورکس، Wi-Fi نیٹ ورکس اور اپنے سینسرز سے حاصل ہونے والی معلومات کو بھی استعمال کر سکتا ہے۔

اور یہ سب کچھ چند لمحوں میں ہو جاتا ہے۔


نتیجہ

موبائل فون ہماری جگہ معلوم کرنے کے لیے صرف ایک ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کرتا۔

GPS یا دیگر سیٹلائٹ نیویگیشن نظام آسمان سے سگنلز فراہم کرتے ہیں۔

موبائل ٹاورز ہمیں نیٹ ورک کے حوالے سے مقام کا اندازہ دینے میں مدد کرتے ہیں۔

Wi-Fi خاص طور پر شہری اور اندرونی علاقوں میں مقام کی درستگی بہتر بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔

موبائل کے سینسرز حرکت اور سمت کے بارے میں اضافی معلومات فراہم کرتے ہیں۔

اور پھر موبائل یا متعلقہ ایپ ان تمام معلومات کو ملا کر ہماری موجودہ جگہ کا اندازہ لگاتی ہے۔

لہٰذا اگلی بار جب آپ اپنے موبائل پر نقشہ کھولیں اور اسکرین پر اپنی جگہ کا نیلا نقطہ دیکھیں تو یاد رکھیں کہ اس چھوٹے سے نقطے کے پیچھے سیٹلائٹس، ریڈیو سگنلز، انتہائی درست وقت، ریاضی، موبائل ٹاورز، Wi-Fi اور جدید کمپیوٹنگ کا ایک شاندار نظام کام کر رہا ہے۔

یعنی آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل فون صرف فون نہیں، بلکہ ایک ایسا چھوٹا سا آلہ ہے جو زمین پر آپ کی جگہ کا اندازہ لگانے کے لیے خلا اور زمین دونوں سے معلومات حاصل کر سکتا ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *