کہانی: “اگلا قدم”
کرن ایک بڑے شہر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا تھا۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ، وہی صبح سے شام کی نوکری، اور روز کا ذہنی دباؤ۔ وہ اندر سے تھک چکا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ اس کی زندگی ایک ہی جگہ رک گئی ہے—نہ کوئی ترقی، نہ کوئی بڑی خوشی۔
ایک شام، جب وہ بہت پریشان تھا، وہ شہر کے ایک پرانے پارک میں جا کر بیٹھ گیا۔ وہاں ایک بوڑھا سا درخت تھا، جس کے نیچے ایک بزرگ شخص بیٹھ کر پرانے قسم کے چراغ ٹھیک کر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔
کرن ان کے پاس گیا اور ان سے پوچھا، “چاچا، آپ ان پرانی اور ٹوٹی پھوٹی چیزوں کو ٹھیک کرنے میں اتنی محنت کیوں کرتے ہو؟ آج کل تو نئے ڈیجیٹل لائٹس کا زمانہ ہے، ان کی کیا قیمت؟”
بزرگ مسکرائے اور بولے، “بیٹا، نئے زمانے کی روشنی چوندھیاہٹ تو دیتی ہے، پر سکون نہیں۔ یہ جو پرانا چراغ ہے نا، اس کی خوبصورتی اس بات میں نہیں ہے کہ یہ کتنا چمکتا ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ یہ اندھیرے میں بھی اپنا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔”
کرن نے آہ بھری اور کہا، “میرا بھی اندھیرا چل رہا ہے، چاچا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میرا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ سب کچھ رکا ہوا لگتا ہے۔”
بزرگ نے مٹی کا ایک دیا اٹھایا، اسے جلایا اور کرن کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس وقت پارک میں کافی اندھیرا ہو چکا تھا۔
بزرگ نے پوچھا، “اس دیے کی روشنی کو دیکھو۔ یہ تمہیں یہاں سے تمہارا گھر تو نہیں دکھا سکتی، صحیح کہا نا؟” کرن نے جواب دیا، “جی بالکل نہیں، یہ تو بس دو قدم آگے کی جگہ ہی روشن کر رہا ہے۔”
بزرگ نے کرن کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا:
“زندگی بھی ایسی ہی ہے، بیٹا! جب راستہ دھندلا ہو اور منزل نہ دکھ رہی ہو، تو پوری زندگی کو ایک ساتھ روشن کرنے کی کوشش مت کرو۔ بس اتنی روشنی کافی ہے کہ تم اپنا اگلا ایک قدم دیکھ سکو۔ ایک قدم بڑھاؤ، آگے کا راستہ اپنے آپ بنتا جائے گا۔”
کہانی کا سبق
ہم اکثر پوری زندگی کا پلان ایک ساتھ بنانے کے چکر میں پریشان ہو جاتے ہیں اور جو موقع ہمارے سامنے ہوتا ہے، اس پر دھیان نہیں دیتے۔ زندگی کو بدلنے کے لیے کسی بڑے معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی، بس ایک چھوٹا اور صحیح اگلا قدم ہی کافی ہوتا ہے۔
آپ کا آج کا دن جیسا بھی رہا ہو، یاد رکھیے—اگلا قدم ہمیشہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے

