
زمین بظاہر ایک ٹھوس اور پرسکون جگہ نظر آتی ہے، لیکن اس کی سطح کے نیچے ایک ایسی پراسرار اور خوفناک دنیا موجود ہے جس کے بارے میں انسان ابھی تک مکمل معلومات حاصل نہیں کر سکا- زمین کی گہرائی میں کیا موجود ہے اور انسانی ٹیکنالوجی ہمیں کتنے نیچے لے جا سکی ہے؟ آئیے اس کی مکمل تفصیل جانتے ہیں-
زمین کی اندرونی بناوٹ
زمین بنیادی طور پر چار اہم پرتوں پر مشتمل ہے:
سطحی چھلکا (کرسٹ): یہ وہ سب سے بیرونی اور باریک پرت ہے جس پر ہم رہتے ہیں، عمارتیں بناتے ہیں اور سمندر موجود ہیں- یہ خشکی پر تقریباً 30 سے 70 کلومیٹر اور سمندروں کے نیچے 5 سے 10 کلومیٹر تک گہری ہے-
درمیانی پرت (مینٹل): سطحی چھلکے کے بالکل نیچے یہ پرت تقریباً 2,900 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے- یہاں انتہائی گرم پگھلی ہوئی چٹانیں اور میگما موجود ہوتا ہے جو آتش فشاں کے ذریعے باہر آتا ہے-
بیرونی مرکز: یہ حصہ تقریباً 2,200 کلومیٹر موٹا ہے اور یہاں پگھلا ہوا لوہا اور نکل شدید حرارت کی وجہ سے مائع حالت میں موجود ہے- اس حصے کی گردش سے ہی زمین کا مقناطیسی نظام بنتا ہے-
اندرونی مرکز: زمین کا سب سے اندرونی حصہ ایک ٹھوس گیند کی مانند ہے جس کا درجہ حرارت سورج کی سطح کے برابر یعنی تقریباً 5,000 سے 6,000 ڈگری سینٹی گریڈ ہے- انتہائی شدید دباؤ کی وجہ سے یہ حصہ گرم ہونے کے باوجود پگھلنے کے بجائے ٹھوس حالت میں ہے-
زمین کے اندر کیا کچھ چھپا ہے؟
پگھلی ہوئی دھاتیں اور میگما: زمین کے اندر لوہے اور نکل کے عظیم سمندر اور پگھلی ہوئی چٹانیں موجود ہیں-
قیمتی معدنیات اور ہیرے: زمین کی گہرائی میں شدید دباؤ اور حرارت کی وجہ سے ہیرے، سونا، اور دیگر قیمتی معدنیات بنتے ہیں-
زیرِ زمین پانی کے خزانے: تحقیقات کے مطابق زمین کی گہرائی میں چٹانوں کے اندر اتنی بڑی مقدار میں پانی موجود ہو سکتا ہے جو سطح کے تمام سمندروں کے مجموعی پانی سے بھی زیادہ ہو-
قدیم راز: زمین کے گہرے حصوں میں اربوں سال پرانی چٹانیں اور مادے موجود ہیں جو اس کائنات اور زمین کی پیدائش کے راز سمیٹے ہوئے ہیں-
انسان زمین کے کتنے نیچے تک پہنچ سکا ہے؟
انسان نے خلا میں لاکھوں کلومیٹر دور تک قدم جما لیے ہیں، لیکن اپنی ہی زمین کے اندر جانا اس کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے-
سب سے گہرا سوراخ (کولا سپر ڈیپ بور ہول)
انسان کی تاریخ میں زمین کے اندر سب سے گہرا سوراخ روس کے علاقے میں کیا گیا- اس سوراخ کی کل گہرائی 12,262 میٹر (تقریباً 12.2 کلومیٹر) ہے-
کھدائی کیوں روکنی پڑی؟
جب کھدائی 12 کلومیٹر سے آگے بڑھی تو وہاں کا درجہ حرارت توقع سے کہیں زیادہ یعنی تقریباً 180 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا- اس شدید حرارت اور دباؤ کی وجہ سے ڈرلنگ کرنے والی مشینیں پگھلنے اور خراب ہونے لگیں، جس کی وجہ سے یہ منصوبہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا پڑا-
انسان نے کتنا حصہ کھودا؟
اگر زمین کا موازنہ ایک سیب سے کیا جائے تو انسان کی کی گئی سب سے گہری کھدائی سیب کے چھلکے کو بھی مکمل طور پر پار نہیں کر سکی- زمین کے مرکز تک کا فاصلہ تقریباً 6,371 کلومیٹر ہے، جبکہ انسان صرف 12.2 کلومیٹر تک ہی پہنچ سکا ہے، جو کل فاصلے کا ایک فیصد بھی نہیں بنتا-
سب سے گہری انسانی کان
اگر انسان کے خود زمین کے اندر داخل ہونے کی بات کی جائے تو جنوبی افریقہ میں واقع “مپونینگ” سونے کی کان سب سے گہری ہے- یہاں انسان تقریباً 4 کلومیٹر کی گہرائی تک نیچے جا چکے ہیں- وہاں زمین کے اندر کا درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہاں مسلسل برف اور ٹھنڈی ہوا بھیجنی پڑتی ہے تاکہ مزدور کام کر سکیں-
سائنسی ترقی کے باوجود زمین کا اندرونی حصہ آج بھی انسان کے لیے ایک عظیم اور پراسرار راز بنا ہوا ہے-
