زمین کے قطبی علاقے (آرکٹک اور انٹارکٹک)

زمین کے قطبی علاقے (آرکٹک اور انٹارکٹک)

دنیا میں چند مخصوص مقام ایسے ہیں جہاں سال کے کچھ مہینوں میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ اس قدرتی عمل کو “آدھی رات کا سورج” (مڈ نائٹ سن) کہا جاتا ہے۔ یہ حیرت انگیز منظر بنیادی طور پر شمالی اور جنوبی قطبین یعنی آرکٹک سرکل اور انٹارکٹک سرکل کے علاقوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟

ہماری زمین اپنے محور پر تقریباً ساڑھے تیئس درجے (23.5) جھکی ہوئی ہے۔ جب زمین سورج کے گرد چکر کاٹتی ہے، تو اس جھکاؤ کی وجہ سے سال کے مختلف اوقات میں مختلف حصے سورج کے سامنے رہتے ہیں۔

شمالی قطب کا موسمِ گرما: مارچ سے ستمبر کے درمیان شمالی نصف کرہ سورج کی طرف جھکا ہوتا ہے۔ اس دوران شمالی قطبی خطے میں دن مسلسل قائم رہتا ہے۔

جنوبی قطب کا موسمِ گرما: ستمبر سے مارچ کے درمیان جنوبی نصف کرہ سورج کی طرف جھکا ہوتا ہے، جس سے انٹارکٹیکا کے خطے میں روشنی مسلسل رہتی ہے۔

وہ ممالک جہاں یہ منظر نظر آتا ہے

شمالی قطبی علاقے میں واقع درج ذیل ممالک میں یہ عمل سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے:

ناروے: اس ملک کو “آدھی رات کے سورج کی سرزمين” بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کے کچھ شمالی جزائر میں مئی سے اگست کے درمیان یعنی تقریباً چھہتر (76) دن تک سورج غروب نہیں ہوتا۔

فن لینڈ: فن لینڈ کے شمالی علاقوں میں گرمیوں کے دوران لگ بھگ تہتر (73) دن تک روشنی برقرار رہتی ہے اور رات کا نام و نشان نہیں ہوتا۔

آئس لینڈ: یہاں جون کے مہینے میں سورج رات کو چند لمحات کے لیے افق کے قریب جاتا ہے لیکن مکمل اندھیرا کبھی نہیں ہوتا۔

سویڈن اور ڈنمارک (گرین لینڈ): ان ممالک کے شمالی حصوں میں بھی مئی سے جولائی کے دوران رات کے وقت چمکتا ہوا سورج دیکھا جا سکتا ہے۔

کینیڈا اور روس کے قطبی علاقے: ان دونوں ممالک کے بالکل شمالی سرحدی علاقوں میں بھی گرمیوں میں کئی ہفتوں تک دن رہتا ہے۔

مقامی زندگی پر اثرات

کئی مہینوں تک مسلسل دھوپ کا رہنا جہاں سیاحوں کے لیے ایک سحر انگیز تجربہ ہے، وہیں مقامی آبادی کے لیے زندگی کے انداز کو یکسر بدل دیتا ہے۔

سونا اور جاگنا: رات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے سونے کے اوقات متاثر ہوتے ہیں۔ مقامی لوگ گھروں میں موٹے اور تاریک پردے استعمال کرتے ہیں تاکہ اندھیرا کر کے سو سکیں۔

زندگی کی چہل پہل: گرمیوں میں لوگ رات کے بارہ بجے بھی سیر و تفریح، ماہی گیری اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔

پودے اور فصلیں: مسلسل روشنی کی وجہ سے پودوں کو زیادہ توانائی ملتی ہے، جس سے یہاں کے کچھ حصوں میں سبزیاں اور پھل غیر معمولی رفتار سے بڑے ہوتے ہیں۔

یہ قدرت کا ایک ایسا عجیب اور حیران کن نظام ہے جو انسان کو زمین اور کائنات کے عظیم توازن پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *