عبدالستار ایدھی – انسانیت کا سب سے بڑا نام

عبدالستار ایدھی – انسانیت کا سب سے بڑا نام

Abdul Sattar Edhi پاکستان کے وہ عظیم انسان تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت میں وقف کر دی۔ ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ انسان پیسے سے نہیں بلکہ اپنے عمل اور نیت سے بڑا بنتا ہے۔

عبدالستار ایدھی 1928 میں بھارت کے علاقے گجرات میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور کراچی میں اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کیا۔ ان کے پاس نہ زیادہ پیسہ تھا اور نہ ہی کوئی بڑی سہولتیں، لیکن ان کے دل میں انسانوں کے درد کو سمجھنے اور ان کی مدد کرنے کا جذبہ بہت مضبوط تھا۔

شروع میں انہوں نے ایک چھوٹی سی دکان سے کام شروع کیا جہاں وہ لوگوں کو بنیادی مدد فراہم کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ انہوں نے دیکھا کہ پاکستان میں بہت سے لوگ غربت، بیماری اور بے بسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی چیز ان کی زندگی کا مقصد بن گئی۔

1951 میں انہوں نے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری قائم کی، جو بعد میں بڑھ کر ایدھی فاؤنڈیشن بن گئی۔ یہ فاؤنڈیشن آہستہ آہستہ پاکستان کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ بن گئی۔

ایدھی صاحب نے دنیا کا سب سے بڑا پرائیویٹ ایمبولینس نیٹ ورک بنایا جو دن رات لوگوں کی مدد کے لیے موجود رہتا تھا۔ کسی بھی حادثے یا ایمرجنسی کی صورت میں ایدھی ایمبولینس سب سے پہلے پہنچتی تھی۔

اس کے علاوہ انہوں نے یتیم بچوں کے لیے گھر، بے سہارا لوگوں کے لیے پناہ گاہیں اور چھوڑے گئے نومولود بچوں کے لیے “جھولا سسٹم” شروع کیا تاکہ کسی بھی بچے کی جان ضائع نہ ہو۔

ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے کبھی مذہب، رنگ، نسل یا قومیت کی بنیاد پر فرق نہیں کیا۔ ان کے نزدیک ہر انسان برابر تھا اور مدد صرف انسانیت کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔

عبدالستار ایدھی نے اپنی زندگی بہت سادہ رکھی۔ انہوں نے کبھی عیش و آرام کی زندگی اختیار نہیں کی اور اپنی پوری زندگی دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔

2016 میں وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کا مشن آج بھی زندہ ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن آج بھی ہزاروں لوگوں کی مدد کر رہی ہے اور ان کا نام انسانیت کی سب سے بڑی مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو ایک عام انسان بھی پوری دنیا کو بدل سکتا ہے۔

DeepDive – Jahan hum Abdul Sattar Edhi jaisi azeem shakhsiyat ki kahani se insaniyat ko gehrai se samajhte hain.

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *