
استنبول اور اینکریج معاہدوں کا پس منظر
استنبول مذاکرات (مارچ 2022): روس اور یوکرین کے وفود کے درمیان جنگ کے ابتدائی مہینوں میں استنبول، ترکی میں براہ راست مذاکرات ہوئے تھے۔ اس وقت ایک ممکنہ امن معاہدے کا مسودہ تیار کیا گیا تھا جس میں یوکرین کی “غیر جانبدارانہ حیثیت” (Neutral Status) اور نیٹو (NATO) میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی شامل تھی۔ صدر پوٹن کا مؤقف ہے کہ روس اب بھی اس مسودے کو مذاکرات کی بنیاد بنانے کے لیے تیار ہے، کیونکہ اس پر دونوں فریقین نے ابتدائی طور پر اتفاق کیا تھا۔
اینکریج (Anchorage) ملاقاتیں: اینکریج، الاسکا میں ہونے والے سفارتی رابطے بنیادی طور پر پسِ پردہ بڑی طاقتوں (جیسے امریکہ اور چین) اور دیگر اہم عالمی اسٹیک ہولڈرز کے مابین سیکیورٹی ضمانتوں پر مبنی رہے ہیں۔ روس ان پرانی سفارتی تفہیمات کو شامل کر کے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ سیکیورٹی کے مسائل صرف یوکرین تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر بین الاقوامی فریم ورک کا حصہ ہیں۔
پوٹن کے بیان کے اہم نکات
امن مذاکرات کی آمادگی: صدر پوٹن نے واضح کیا ہے کہ روس نے کبھی بھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تاہم یہ مذاکرات کسی کے “خام خیالی پر مبنی مطالبات” پر نہیں بلکہ زمین پر موجود حقائق اور ماضی میں طے پانے والے اصولوں کے تحت ہونے چاہئیں۔
مغربی ممالک پر تنقید: روسی صدر کا کہنا ہے کہ یوکرین نے ماضی میں استنبول معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب پہنچنے کے باوجود مغربی ممالک (خصوصاً برطانیہ اور امریکہ) کے دباؤ میں آ کر قدم پیچھے ہٹا لیے تھے۔
مذاکرات کی بنیادی شرائط (روسی مؤقف)
اگرچہ پوٹن استنبول معاہدے کا حوالہ دے رہے ہیں، روس کے موجودہ مطالبات میں یہ باتیں بھی شامل ہیں:
یوکرین کو اپنی نیٹو میں شمولیت کی خواہش سے مستقل طور پر دستبردار ہونا پڑے گا۔
ان چار علاقوں (ڈونیٹسک، لوہانسک، زاپوریژیا، اور خیرسون) سے یوکرینی افواج کا انخلا جنہیں روس اپنے ملک کا حصہ قرار دے چکا ہے۔
یوکرین اور مغرب کا ردعمل
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی اور ان کے مغربی اتحادیوں نے اس قسم کے بیانات کو اکثر “پروپیگنڈا” یا وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ یوکرین کا مستقل مؤقف ہے کہ حقیقی امن مذاکرات صرف اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جب روس 1991 کی سرحدوں کے مطابق اپنی تمام افواج یوکرینی سرزمیں سے واپس بلائے۔
