آسمان:کائنات کی ایک زندہ تاریخ – قرآن پاک میں واضح طور پر ارشاد ہے

آسمان:کائنات کی ایک زندہ تاریخ – قرآن پاک میں واضح طور پر ارشاد ہے

جب اپ رات کے وقت آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور ہزاروں چمکتے ستاروں کو دیکھتے ہیں، تو اپ کو لگتا ہے کہ اپ کائنات کے حال کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سائنس کی روشنی میں دیکھا جائے تو اپ جس آسمان کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ اصل میں ماضی ہے۔ اپ جب بھی آسمان کو دیکھتے ہیں، اپ وقت میں پیچھے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

یہ کوئی جادوئی بات نہیں بلکہ کائنات کی ایک بنیادی طبیعی حقیقت ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

۔ روشنی کی رفتار کا اصول

روشنی کائنات میں سب سے تیز دوڑنے والی چیز ہے، لیکن اس کی بھی ایک حد ہے۔ روشنی کی رفتار تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔

کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ روشنی کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔ جب کسی ستارے یا سیارے سے روشنی نکل کر اپ کی آنکھ تک پہنچتی ہے، تو اس میں کچھ سیکنڈ، کچھ گھنٹے، یا پھر ہزاروں سال لگ جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپ اس چیز کو ویسا نہیں دیکھ رہے جیسے وہ اب ہے، بلکہ ویسا دیکھ رہے ہیں جیسے وہ تب تھی جب وہاں سے روشنی نکلی تھی۔

۔ سورج: آٹھ منٹ پرانا ماضی

اس کی سب سے قریبی اور آسان مثال ہمارا سورج ہے۔ سورج زمین سے تقریباً ۱۵ کروڑ کلومیٹر دور ہے۔ سورج سے نکلنے والی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں ۸ منٹ اور ۲۰ سیکنڈ لگتے ہیں۔

اس کا مطلب کیا ہوا؟ اگر ابھی اس وقت سورج اچانک غائب ہو جائے یا بجھ جائے، تو زمین پر موجود کسی بھی انسان کو اگلے ۸ منٹ اور ۲۰ سیکنڈ تک اس بات کا پتہ نہیں چلے گا۔ اپ آسمان پر جو سورج دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ اصل میں سورج کی ۸ منٹ پرانی تصویر ہوتی ہے۔

۔ چاند اور دیگر سیارے

چاند: چاند زمین سے اتنا قریب ہے کہ اس کی روشنی ہم تک پہنچنے میں تقریباً ایک اشاریہ تین سیکنڈ لیتی ہے۔ اپ آسمان پر چاند کو ایک سیکنڈ سے کچھ زیادہ پرانا دیکھتے ہیں۔

مشتری (سیارہ): زمین سے اس کا فاصلہ اتنا ہے کہ اس کی روشنی ہم تک پہنچنے میں تقریباً ۳۰ سے ۵۰ منٹ لیتی ہے۔

نیپچون (دور دراز سیارہ): اس سیارے سے روشنی ہم تک پہنچنے میں تقریباً ۴ گھنٹے لگاتی ہے۔

۔ ستارے: ہزاروں سال پرانا ماضی

جب اپ رات کو آسمان پر دور دراز کے ستاروں کو دیکھتے ہیں، تو اپ وقت کے بہت بڑے سفر پر نکل چکے ہوتے ہیں۔

الفا سنٹوری: یہ ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے قریبی ستاروں کا گروہ ہے۔ اس کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ روشنی کو یہاں تک آنے میں چاربقیا چار سال سے زائد کا عرصہ لگتا ہے۔ یعنی اپ اسے چار سال سے زیادہ پرانا دیکھ رہے ہیں۔

بت الجوزا: آسمان کا یہ مشہور سرخ ستارہ زمین سے سیکڑوں نوری سال دور ہے۔ آج رات اپ جو یہ ستارہ دیکھ رہے ہیں، وہ روشنی وہاں سے صدیوں پہلے نکلی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ستارہ اصل میں پھٹ کر ختم بھی ہو چکا ہو، لیکن اس کی خبر زمین تک پہنچنے میں ابھی مزید وقت لگ سکتا ہے!

۔ کہکشانیں: اربوں سال پرانا ماضی

ماضی میں دیکھنے کا یہ سلسلہ صرف ستاروں تک محدود نہیں ہے۔

اینڈرومیڈا کہکشان: یہ ہماری کہکشان کی سب سے قریبی کہکشان ہے۔ یہ زمین سے اتنی دور ہے کہ اس کی روشنی ہم تک پہنچنے میں پچیس لاکھ سال لگاتی ہے۔ جب اپ آسمان پر اس کہکشان کو دیکھتے ہیں، تو اپ ۲۵ لاکھ سال پرانا ماضی دیکھ رہے ہوتے ہیں—اس وقت زمین پر جدید انسان کا وجود بھی نہیں تھا!

خلائی دوربینیں: انسان کی بنائی ہوئی جدید خلائی دوربینیں کائنات کے سب سے دور دراز حصوں کو دیکھ سکتی ہیں۔ ان دوربینوں کے ذریعے ہم ۱۳ ارب سال سے بھی زیادہ پرانی کہکشانوں کو دیکھ رہے ہیں—یعنی کائنات کی پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد کی دنیا!

نتیجہ

آسمان کوئی ساکت تصویر نہیں ہے، بلکہ یہ وقت کی ایک مشین ہے۔ اپ جب بھی رات کو کھلے آسمان کے نیچے کھڑے ہوتے ہیں، اپ ایک ہی وقت میں چند سیکنڈ سے لے کر ہزاروں سال پرانے ماضی کے مناظر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

کائنات کی یہ خوبصورتی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ ضروری نہیں کہ حال میں ویسا ہی ہو۔ آسمان اصل میں کائنات کی تاریخ کا ایک زندہ البم ہے!

قرآن پاک میں واضح طور پر ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے ہیں (“الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا”).

اس بات کو سمجھنے کے لیے اسلامی تعلیمات اور سائنسی مشاہدات کے باہمی تعلق کو دیکھنا ضروری ہے:

۔ پہلا آسمان (سماء الدنیا) اور یہ پوری کائنات

قرآن مجید کی سورۃ الملک (آیت ۵) اور سورۃ الصافات (آیت ۶) میں ارشاد ہوتا ہے:

“اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (سماء الدنیا) کو چراغوں (ستاروں اور کہکشانوں) سے آراستہ کیا۔”

اس آیت سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ:

ہم جتنی بھی کائنات، ستارے، کہکشانیں اور اربوں نوری سال دور تک کی چیزیں سائنس یا دوربینوں کے ذریعے دیکھتے ہیں، یہ سب پہلے آسمان (سماء الدنیا) کے اندر ہی شامل ہیں۔

روشنی کی رفتار، ماضی کا نظر آنا، اور کائنات کا پھیلائو—یہ تمام تر سائنسی قوانین اسی پہلے آسمان کی مادی (فزیکل) دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔

۔ باقی چھ آسمان (عالمِ غیب کا حصہ)

پہلے آسمان کے بعد باقی چھ آسمان انسانی سائنس، تجربات اور دوربینوں کی رسائی سے باہر ہیں۔

وہ عالمِ غیب کا حصہ ہیں، جن کی حقیقت، وسعت اور ساخت تک انسان کے بنائے ہوئے آلات کی پہنچ نہیں ہے۔

ہم جو ماضی کو دیکھنے یا روشنی کی رفتار کا حساب لگاتے ہیں، وہ صرف اسی نظر آنے والی کائنات یعنی پہلے آسمان کی حد تک محدود ہے۔

خلاصہ

اسلامی عقیدے اور سائنسی حقیقت کے درمیان کوئی ٹکراؤ یا تضاد نہیں ہے:

۱۔ سائنسی حقیقت: ہم پہلے آسمان کے اندر موجود ستاروں سے آنے والی روشنی کو ماضی میں دیکھتے ہیں کیونکہ روشنی کو فاصلہ طے کرنے میں وقت لگتا ہے۔

۲۔ اسلامی عقیدہ: یہ تمام تر نظر آنے والی کائنات، اربوں کہکشانیں اور ستاروں کا نظام صرف پہلے آسمان (سماء الدنیا) کا حصہ ہیں۔ اس کے اوپر مزید چھ آسمان موجود ہیں جن کی عظمت اور حقیقت انسانی عقل اور سائنس کے احاطے سے ماوراء ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *