
ایک سو سال کا عرصہ انسان کے لیے بہت طویل ہے، لیکن زمین کی تاریخ میں یہ لمحے کے برابر ہے۔ اگر انسان اس سیارے سے اچانک غائب ہو جائیں تو فطرت بہت تیزی سے اپنا تحرک دکھائے گی اور انسانوں کی بنائی ہوئی تمام چیزوں کو اپنے اندر جذب کر لے گی۔
اگر زمین سے تمام انسان اچانک غائب ہو جائیں: ۱۰۰ سال بعد دنیا کا منظر نامہ
مختصر خلاصہ: انسانیت کے اچانک اوجھل ہو جانے کے بعد فطرت کس طرح زمین پر اپنا مکمل قبضہ قائم کرتی ہے؟ جانیے ۱۰۰ سال بعد شہروں، جنگلی حیات، ماحول اور انسان کی بنائی ہوئی عمارتوں کا کیا انجام ہوگا۔
. پہلے چند ایام اور سال: ابتدائی تباہی اور اندھیرا
انسانوں کے جاتے ہی سب سے پہلے بجلی کے نظام درہم برہم ہوں گے۔
پہلے ۲۴ گھنٹے: دنیا بھر کے بجلی گھر ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بند ہونا شروع ہو جائیں گے۔ پوری دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے گی۔
پہلا ہفتہ: نیوکلیائی اور تھرمل پاور پلانٹس کا خودکار تحفظاتی نظام بند ہو جائے گا۔ زیرِ زمین سرنگیں اور انڈر گراؤنڈ ریلوے ٹریک پانی سے بھر جائیں گے کیونکہ پانی نکالنے والے پمپ کام کرنا چھوڑ دیں گے۔
پہلا سال: بارشوں اور زلزلوں کی وجہ سے سڑکیں ٹوٹنا شروع ہو جائیں گی۔ اربوں پالتو جانور جو گھروں میں بند ہوں گے، خوراک نہ ملنے کی وجہ سے ختم ہو جائیں گے، جبکہ ان کی بچی ہوئی نسلیں جنگلی بن جائیں گی۔
. ۵۰ سے ۱۰۰ سال: شہروں کا زوال اور جنگلات کا قبضہ
ایک صدی بعد انسان کی بڑی بڑی ایجادات کا وجود مٹ چکا ہوگا یا وہ شدید بدحالی کا شکار ہو چکی ہوں گی۔
کنکریٹ اور لوہے کی شکست
سیمنٹ اور کنکریٹ سے بنی عمارتوں کی دراڑوں میں پودے اور درخت اگنا شروع ہو جائیں گے۔ بارش کا پانی اور برفباری جم کر پھیلنے لگے گی، جس سے اینٹیں اور پتھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے:
پل اور برج: مسلسل زنگ لگنے اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث تمام لوہے کے پل گر چکے ہوں گے۔
فلک بوس عمارتیں: بڑی بڑی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ چکے ہوں گے اور ان کی ساخت کے اندر موجود لوہا زنگ آلود ہو کر کمزور ہو چکا ہوگا۔ کچھ عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہوں گی اور جو باقی ہوں گی وہ عمودی جنگلات کی شکل اختیار کر چکی ہوں گی۔
سڑکوں کا نام و نشان
ڈامر (کولتار) کی سڑکیں جھاڑیوں اور بڑے درختوں کی جڑوں کی وجہ سے پھٹ کر ختم ہو جائیں گی۔ نیویارک، ٹوکیو اور لندن جیسے بڑے شہر ندی نالوں اور گھنے جنگلوں میں تبدیل ہو چکے ہوں گے۔
. قدرتی حیات کا عروج: جنگلی جانوروں کا نیا راج
انسان شکار، آلودگی اور شہر کاری کے ذریعے جنگلی حیات کو محدود کرتا رہا ہے۔ انسان کی غیر موجودگی جانوروں کے لیے ایک نئی زندگی ثابت ہوگی۔
| عنوان | ۱۰۰ سال بعد کی صورتحال |
|---|---|
| سمندری حیات | سمندروں میں مچھلیوں، وھیل اور دیگر آبی مخلوق کی تعداد میں سینکڑوں گنا اضافہ ہو چکا ہوگا کیونکہ مچھلی پکڑنے کے تمام عمل رک چکے ہوں گے۔ |
| پرندے | اونچی عمارتوں کے اینٹینا اور شیشوں سے نہ ٹکرانے کی وجہ سے پرندوں کی تعداد بے شمار ہو جائے گی۔ |
| شہری جانور | لومڑیاں، بھیڑیے، ہرن اور مختلف قسم کے جنگلی چرندے اب سابقہ شہروں کی گلیوں اور کھنڈرات میں گھوم رہے ہوں گے۔ |
. ماحول اور آب و ہوا کی بحالی
صنعتی انقلاب کے بعد انسان نے جو زہریلی گیسیں اور آلودگی ماحول میں چھوڑی تھیں، فطرت اسے آہستہ آہستہ صاف کر دے گی۔
ہوا کی صفائی: گاڑیوں، کارخانوں اور ہوائی جہازوں کا دھواں بند ہونے کی وجہ سے فضا مکمل طور پر صاف، شفاف اور آلودگی سے پاک ہو چکی ہوگی۔
کاربن کی سطح میں کمی: کروڑوں درختوں اور جنگلات کے اگنے سے ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کافی حد تک کم ہو جائے گی، جس سے زمین کی حرارت میں استحکام آئے گا۔
پلاسٹک اور کچرا: اگرچہ ماحول صاف ہو جائے گا، لیکن انسان کا بنایا ہوا پلاسٹک اور کچھ کیمیائی مادے اگلے چند سو سال تک مزید قائم رہیں گے، تاہم ان پر مٹی اور نباتات کی تہہ چڑھ چکی ہوگی۔
. نتیجہ: زمین کا نیا توازن
انسان کا خیال ہے کہ اس کی بنائی ہوئی کائنات ابدی ہے، لیکن ۱۰۰ سال کا عرصہ ہی انسان کی تمام تر ٹیکنالوجی، فنِ تعمیر اور نشانیوں کو مٹانے کے لیے کافی ہے۔
زمین کو انسان کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ وہ اپنے پرانے، فطری اور خوبصورت توازن پر واپس لوٹ آئے گی۔ اگر ۱۰۰ سال بعد کوئی خلائی مخلوق زمین پر قدم رکھے گی تو اسے کسی عظیم اور متحرک تہذیب کے آثار تو ملیں گے، لیکن دنیا پر صرف اور صرف فطرت اور جانوروں کا راج ہوگا۔
