سمندر کے نیچے ایک الگ دنیا ہے — انسان ابھی تک کتنا دریافت کر سکا؟

سمندر کے نیچے ایک الگ دنیا ہے — انسان ابھی تک کتنا دریافت کر سکا؟

زمین پر زندگی کا وجود پانی سے ممکن ہوا، اور اس زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے۔ ہم انسانوں نے چاند پر قدم رکھ لیا، مریخ پر روورز بھیج دیے اور خلا کے دور دراز گوشوں کی تصاویر حاصل کر لیں، لیکن ہماری اپنی زمین کا سب سے بڑا حصہ—یعنی گہرا سمندر—آج بھی ایک راز بنا ہوا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہم نے چاند اور مریخ کی سطح کے بارے میں اس سے زیادہ نقشے بنائے ہیں جتنے کہ اپنے سمندر کے نچلے حصے کے بنائے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سمندر کے نیچے واقعی کیا ہے اور انسان اب تک اس پراسرار دنیا کو کتنا دریافت کر سکا ہے؟

ہم نے اب تک کتنا دریافت کیا ہے؟ (حیرت انگیز حقائق)

اگر ہم فیصد کے حساب سے دیکھیں تو انسان نے اب تک سمندر کے نچلے حصے کا صرف 20% سے 25% حصہ ہی تفصیل سے نقشہ بند اور دریافت کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سمندر کا 75% سے زائد حصہ ابھی تک مکمل طور پر ناپید اور انسان کی نظروں سے اوجھل ہے۔

حیاتیاتی تنوع : سمندری ماہرین کے مطابق، سمندر میں 20 لاکھ سے زائد مختلف انواع موجود ہو سکتی ہیں، لیکن ہم نے اب تک صرف 2,30,000 کے قریب انواع کو دریافت اور رجسٹر کیا ہے۔ یعنی تقریباً 80% سے 90% سمندری مخلوقات ایسی ہیں جنہیں انسان نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔

پانی کی گہرائی: سمندر کا سب سے گہرا معلوم مقام ماریانا ٹرینچ میں واقع چیلنجر ڈیپ ہے، جس کی گہرائی تقریباً 10,994 میٹر (تقریباً 11 کلومیٹر) ہے۔ یہ گہرائی ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی (8,849 میٹر) سے بھی زیادہ ہے۔

سمندر کی زیرِ زمین دنیا کی تقسیم

سمندر میں جیسے جیسے ہم نیچے جاتے ہیں، روشنی کم ہوتی جاتی ہے اور دباؤ (Pressure) بڑھتا جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے سمندر کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے:

سن لائٹ زون

یہ سطح سے 200 میٹر تک کا حصہ ہے۔ یہاں سورج کی روشنی مکمل طور پر پہنچتی ہے، پودے اور زیادہ تر معروف مچھلیاں، شارک، ڈولفن اور مرجان اسی حصے میں پائے جاتے ہیں۔

ٹوائی لائٹ زون

200 میٹر سے 1,000 میٹر تک کی گہرائی۔ یہاں روشنی انتہائی مدہم ہو جاتی ہے اور پودے نہیں اگ سکتے۔ یہاں پائے جانے والے جانوروں میں عجیب الخلقت خصوصیات ہوتی ہیں، جیسے خود سے روشنی پیدا کرنے کی صلاحیت .

. مڈ نائٹ زون

1,000 میٹر سے 4,000 میٹر تک۔ یہاں مکمل اندھیرا ہوتا ہے۔ پانی کا درجہ حرارت نقطہ جمود کے قریب (1 سے 4 ڈگری سیلسیس) ہوتا ہے اور دباؤ بے پناہ بڑھ جاتا ہے۔

ایبیسل زون

4,000 میٹر سے 6,000 میٹر تک۔ یہ سمندر کا سب سے وسیع میدانی حصہ ہے۔ یہاں انتہائی دباؤ کے باوجود عجیب و غریب مخلوقات اور تھرمل وینٹس پائے جاتے ہیں۔

5. ہیڈل زون (Hadal Zone)

6,000 میٹر سے 11,000 میٹر تک۔ یہ سمندری کھائیاں ہیں۔ یہاں کا دباؤ سطحِ سمندر سے 1,000 گنا زیادہ ہوتا ہے—یعنی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کے سر پر سینکڑوں ہاتھی کھڑے کر دیے جائیں!

گہرے سمندر کے حیرت انگیز انکشافات

جب بھی انسان گہرے سمندر میں اپنی آبدوزیں یا روبوٹس بھیجتا ہے، تو نئی اور حیران کن چیزیں سامنے آتی ہیں:

آتش فشاں اور گرم پانی کے چشمے : سمندر کے پیندے پر ہزاروں کی تعداد میں ایسے آتش فشانی سوراخ ہیں جہاں سے سو ڈگری سے بھی زیادہ گرم اور معدنیات سے بھرپور پانی نکلتا ہے۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں سورج کی روشنی کے بغیر بھی زندگی پھل پھول رہی ہے۔

روشنی پیدا کرنے والی مخلوق : گہرے سمندر میں رہنے والے 80% جانور اپنے جسم سے نیلی اور سبز روشنی خارج کرتے ہیں تاکہ شکار کو متوجہ کر سکیں یا ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں۔

زیرِ سمندر پہاڑی سلسلے: دنیا کا سب سے لمبا پہاڑی سلسلہ زمین پر نہیں بلکہ سمندر کے نیچے ہے، جسے مڈ اٹلانٹک ریج کہا جاتا ہے، جو 65,000 کلومیٹر طویل ہے۔

زیرِ آب دریا اور جھیلیں: سمندر کے اندر بھی نمکین پانی اور کیمیائی مادوں کی ایسی تہہیں موجود ہیں جو الگ سے دریاؤں اور جھیلوں کی طرح بہتی نظر آتی ہیں۔

دریافت میں سب سے بڑی رکاوٹیں کیا ہیں؟

انسان کے لیے گہرے سمندر کی دریافت خلائی سفر سے بھی زیادہ مشکل کیوں ہے؟

بے پناہ دباؤ : جیسے جیسے نیچے جائیں، پانی کا وزن اور دباؤ انسان یا عام ساخت کی آبدوزوں کو پچکانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

مکمل اندھیرا : 200 میٹر کی گہرائی کے بعد روشنی کا نام و نشان نہیں رہتا، جس کی وجہ سے خاص لائٹس اور کیمروں کے بغیر کچھ دیکھنا ناممکن ہے۔

سرد ترین درجہ حرارت: گہرے سمندر میں پانی کا درجہ حرارت نقطہ جمود کے قریب رہتا ہے۔

باہمی رابطہ : پانی کے اندر ریڈیو سگنلز کام نہیں کرتے، جس کی وجہ سے نیچے موجود آبدوزوں سے رابطہ رکھنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔

اخراجات : گہرے سمندر کے مشنز اور جدید ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر کے اخراجات آتے ہیں۔

مستقبل اور سمندری دریافت کی اہمیت

آج سائنسی ادارے روبوٹک ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خودکار آبدوزوں کا استعمال کر کے سمندر کے باقی ماندہ حصوں کا نقشہ بنا رہے ہیں۔ بین الاقوامی پروجیکٹ کا مقصد 2030ء تک دنیا کے پورے سمندری پیندے کا مکمل نقشہ تیار کرنا ہے۔

یہ دریافت کیوں ضروری ہے؟

نئی ادویات کا حصول: گہرے سمندر میں موجود بیکٹیریا اور مخلوقات سے سرطان اور دیگر بیماریاں دور کرنے والی ادویات تیار کی جا رہی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی : سمندر ہماری زمین کی آکسیجن کا 50% سے زائد حصہ پیدا کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں۔ سمندر کو سمجھے بغیر زمین کے موسم کو سمجھنا ناممکن ہے۔

معدنیات کی تلاش: سمندر کے نچلے حصے میں نایاب دھاتیں اور معدنیات موجود ہیں جو مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے اہم ہو سکتی ہیں۔

نتیجہ

سمندر کے نیچے واقعی ایک ایسی دنیا آباد ہے جو ہماری سوچ اور گمان سے پرے ہے۔ ہم نے اب تک جو کچھ دیکھا ہے وہ صرف ایک شروعات ہے۔ سمندر کے سینے میں دفن راز، عجیب و غریب مخلوقات اور انوکھے جغرافیائی مناظر انسان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم جس سیارے پر رہتے ہیں، ابھی اس کے بارے میں بھی ہم مکمل علم نہیں رکھتے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *