
اس کے اہم ترین اثرات درج ذیل ہوں گے:
مالیات اور بینکنگ کا نظام
ڈیجیٹل ادائیگیاں: آن لائن بینکنگ، کریڈٹ و ڈیبٹ کارڈز، اے ٹی ایم اور موبائل والٹس کام کرنا بند کر دیں گے۔
سٹاک مارکیٹ اور عالمی تجارت: دنیا بھر کی سٹاک ایکسچینج اور بین الاقوامی بینکنگ سسٹمز ٹھپ ہو جائیں گے، جس سے اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوگا۔
کیش کا بحران: لوگ نقد رقم حاصل کرنے کے لیے بینکوں کی طرف بھاگیں گے، لیکن بینکوں کے پاس بھی آن لائن ریکارڈز تک رسائی نہیں ہوگی۔
مواصلات کا خاتمہ
واٹس ایپ، ای میل، سوشل میڈیا اور تمام ویڈیو کالز یکسر بند ہو جائیں گی۔
رابطہ صرف روایتی فون کالز اور ایس ایم ایس تک محدود ہو جائے گا، جس کی وجہ سے ٹیلی کام نیٹ ورکس پر شدید بوجھ پڑے گا اور وہ بھی جام ہو سکتے ہیں۔
لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ
ہوائی سفر: فلائٹ بکنگ، فلائٹ ٹریکنگ اور ایئرپورٹ سسٹمز متاثر ہوں گے، جس سے پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو جائیں گی۔
سپلائی چین: ای کامرس اور کارگو ٹریکنگ رک جائے گی۔ سپر مارکیٹوں تک ضروری سامان اور خوراک کی فراہمی میں شدید مشکلات آئیں گی۔
نیویگیشن: جی پی ایس پر مبنی ایپس (جیسے گوگل میپس یا ٹیکسی سروسز) کام کرنا بند کر دیں گی۔
صحت اور ایمرجنسی خدمات
ہسپتالوں میں مریضوں کے ڈیجیٹل ریکارڈز، لیب رپورٹس اور آن لائن سسٹمز تک رسائی ناممکن ہو جائے گی۔
ایمرجنسی سروسز (ایمبولینس، فائر برگیڈ) کی لوکیشن ٹریکنگ اور کوآرڈینیشن متاثر ہوگی۔
خبریں اور معلومات
لوگ معلومات اور خبروں کے لیے دوبارہ ریڈیو اور ٹی وی (کیبل/اینٹینا) پر انحصار کرنے لگیں گے۔
حقائق کی فوری تصدیق نہ ہونے کی وجہ سےافواہیں اور سنسنی تیزی سے پھیلے گی۔
ابتدائی 24 سے 48 گھنٹوں میں شدید خوف و ہراس اور افراتفری کا ماحول بنے گا، اور اگر یہ سلسلہ طویل ہو جائے تو عالمی معیشت دہائیوں پیچھے چلی جائے گی۔
